تیز ترین نصف سنچری اور سنچری کے ریکارڈز ابراہم ڈی ویلیئرز کے نام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈی ویلیئرز نے نصف سنچری مکمل کرنے میں 19 اور سنچری بنانے میں کل 40 منٹ لگائے۔

جنوبی افریقہ کے بلے باز ابراہم ڈیویلیئرز نے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری اور سنچری بنا کر ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل بولروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

انھوں نے یہ کارنامے اتوار کو جوہانسبرگ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ایک روزہ کرکٹ میچ میں سرانجام دیے۔

تفصیلی سکور کارڈ

اس میچ میں جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے 440 رنز کا ہدف دیا جو کہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا بڑا ہدف ہے۔

جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم سات وکٹوں کے نقصان پر 291 رنز بنا سکی۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے سمتھ نے 64، رام دین نے 57 اور سیمیولز اور کارٹر نے 40 40 رنز بنائے۔

اس سے قبل 39 ویں اوور میں بلے بازی کے لیے میدان میں اترنے والے ڈی ویلیئرز نے 44 گیندوں میں 149 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ اپنی اس اننگز میں انھوں نے نو چوکے اور 16 چھکے مارے۔

اننگز کے دوران ڈی ویلیئرز نے جب 16 گیندوں میں تین چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی تو انھوں نے تیز ترین نصف سنچری کا 18 سالہ پرانا ریکارڈ توڑ ڈالا جو سری لنکا کے سنتھ جے سوریا نے پاکستان کے خلاف 1996 میں قائم کیا تھا۔

نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد بھی ڈی ویلیئرز کا بلا رنز اگلتا رہا اور انھوں نے اپنے اگلے 50 رنز بنانے کے لیے 15 گیندیں اور استعمال کیں اور مزید پانچ چوکے اور پانچ چھکے مارے۔

یوں وہ 31 گیندوں پر 8 چوکوں اور 10 چھکوں کی مدد سے سنچری مکمل کر کے دنیائے کرکٹ میں تیز ترین سو رنز بنانے والے بلے باز بن گئے۔

ان سے قبل یہ ریکارڈ نیوزی لینڈ کے کوری اینڈرسن کا تھا جنھوں نے گذشتہ برس یکم جنوری کو کوئنز ٹاؤن میں 36 گیندوں میں سنچری بنا کر پاکستان کے شاہد آفریدی کا 17 سالہ پرانا ریکارڈ توڑا تھا۔

اینڈرسن نے بھی یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی بنایا تھا۔

149 رنز کی اننگز کے دوران ڈی ویلیئرز نے مجموعی طور پر 16 چھکے مار کر ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ برابر کیا۔ یہ ریکارڈ بھارت کے روہت شرما نے ڈبل سنچری بناتے ہوئے قائم کیا تھا۔

اس اننگز میں ڈی ویلیئرز کا سٹرائیک ریٹ 339 رہا اور یہ ون ڈے کی تاریخ میں 50 رنز سے زیادہ کی اننگز میں سب سے زیادہ سٹرائیک ریٹ ہے۔ اور یہ پہلا موقع ہے کہ کسی انٹرنیشنل میچ میں سنچری بنانے والے بلے باز کا اننگز میں سٹرائیک ریٹ 300 سے زیادہ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے 440 رنز کا ہدف دیا جو کہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا ہدف ہے۔

یہ ایک روز کرکٹ کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے کہ اننگز کے 30ویں اوور کے بعد میدان میں اترنے والے بلے باز نے سنچری بنائی ہو۔ یہ کارنامہ پہلے بھی ڈی ویلیئرز نے ہی سنہ 2010 سرانجام دیا تھا۔

اس کے علاوہ ون ڈے کرکٹ میں یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ایک اننگز میں تین بلے بازوں نے سنچریاں بنائی ہیں۔ ڈی ویلیئرز کے علاوہ اس اننگز میں ہاشم آملہ نے 142 گیندوں میں 153 رنز اور روسو نے 128 رنز بنائے۔

آملہ اور ڈی ویلیئرز نے اس اننگز میں 67 گیندوں پر 192 رنز کی شراکت قائم کی اور اس دوران انھوں نے 17 رنز فی اوور کی اوسط سے رنز بنائے جو کہ سو رنز سے زیادہ کی شراکت میں کسی بھی ٹیسٹ ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ سٹرائیک ریٹ ہے۔

اسی بارے میں