پاکستانی کرکٹرز بدعنوانی کے خلاف مہم کا حصہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پی سی بی کے مطابق اس مہم میں شرکت کر کے کھلاڑیوں نے اپنی قومی ذمہ داری نبھائی ہے۔

پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے ملک میں بدعنوانی کے خلاف مہم کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کرکٹ ٹیم کے ارکان نے ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا روانگی سے قبل نیب کی’کرپشن کو نہ کہو‘ نامی مہم کے لیے پیغامات دیے۔

محمد عامر کا وائرس دیگر کھلاڑیوں کے لیے نقصان دہ

نیب کی اس مہم کا مقصد عوام میں بدعنوانی کے خلاف آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ادارے کے سربراہ قمر زمان چوہدری نے اس مہم کے سلسلے میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کے کردار کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹروں کی جانب سے اس پیغام کی ترویج سے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف نیب کی مہم مزید مضبوط ہوئی ہے۔

انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کرکٹروں کی مہم میں شمولیت سے نیب نوجوانوں میں کرپشن کے خلاف آگاہی سے متعلق اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مہم میں شرکت کر کے کھلاڑیوں نے اپنی قومی ذمہ داری نبھائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹروں نے ہر اہم موقعے پر سماجی ذمہ داری محسوس کی ہے اور وہ ماضی میں پولیو کے خلاف مہم کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اب کرپشن کے خلاف مہم میں پاکستانی کرکٹروں کی شرکت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

اے پی پی کے مطابق قومی احتساب بیورو مستقبل میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ارکان کو بدعنوانی کے معاملات پر لیکچر بھی دے سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کئی ارکان پر ماضی میں بدعنوانی کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔

سنہ 2010 میں ٹیم کے تین ارکان سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر انگلینڈ کے خلاف میچ میں سپاٹ فکسنگ کے مرتکب پائے گئے تھےاور اس وقت آئی سی سی کی پابندی کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے لیگ سپنر دانش کنیریا پر بھی سپاٹ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی پاداش میں تاحیات پابندی عائد ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انسدادِ بدعنوانی یونٹ کے ضابطۂ اخلاق کے مطابق تمام رکن ممالک کے کرکٹروں کو کھیل میں میچ اور سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی جیسے بدعنوانی کے معاملات کے بارے میں آگاہی دینا متعلقہ کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے۔

اسی بارے میں