بھارتی خاتون بلیڈ رنر امید کی کرن

تصویر کے کاپی رائٹ KIRAN KANOJIA
Image caption کرن کنوجیا اپنی نئی زندگی اور نئے حوصلے کا سہرا اپنے والد اور اپنی کمپنی کے سر باندھتی ہیں

’لوگوں نے مجھے ریلوے ٹریک سے اٹھایا، پٹری میں پھنسی میری ٹانگ چھڑائی اور پیروں کو باندھ کر واپس ٹرین میں ڈال دیا۔‘

بلیڈ رنر کے نام سے معروف کرن كنوجيا کو چار سال قبل رونما ہونے والا واقعہ جوں کا توں یاد ہے: ’ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کہا کہ نسیں کریش ہو گئی ہیں اور پاؤں كاٹنا پڑے گا۔ یہ واقعہ 24 دسمبر سنہ 2011 میں شام کے وقت پیش آیا تھا اور 25 دسمبر کو میری سالگرہ تھی۔‘

کرن حیدرآباد سے فريدآباد آنے کے لیے ٹرین میں سفر کر رہی تھیں جب چند لڑکوں نے ان کا سامان چھيننا چاہا اور اسی چھین جھپٹ میں وہ ٹرین سے گر گئیں اور ان کا پاؤں ریلوے ٹریک کی پٹریوں میں پھنس گیا نتیجتاً ان کی ایک ٹانگ ڈاکٹروں کو کاٹنی پڑی۔

ایک ٹانگ کٹ جانے کے بعد کرن مایوس ضرور ہوئیں لیکن انھوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ٹانگ کٹنے کے بعد ان کا ردعمل تھا: ’مجھے لگا کہ سالگرہ پر مجھے نئی زندگي ملی ہے۔‘

مصنوعی ٹانگ کے سہارے کرن نے پھر سے زندگی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش شروع کر دی اور زندگی کو نئی سمت دینے کا عزم مصمم کرلیا۔

جسے چلنے میں بھی پریشانی تھی، وہی لڑکی بھارت میں میراتھن دوڑنے لگی اور بھارت کی خاتون بلیڈ رنر کہلانے لگی۔

کرن کہتی ہیں: ’ڈاکٹر کہتے تھے کہ میں دوڑ نہیں پاؤں گی، زندگی نارمل نہیں رہے گی۔ سب کہتے تھے کہ اب تو گھر پر ہی رہنا ہوگا۔‘

وہ کہتی ہیں: ’علاج کے دوران ایسے لوگوں سے ملی جن لوگوں کے پاؤں نہیں تھے، ہاتھ نہیں تھے۔ ہم سب لوگوں نے مل کر میراتھن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ KIRAN KANOJIA
Image caption کرن کنوجیا کا ایک پاؤں ایک حادثے میں جاتا رہا تھا

کرن نے آہستہ آہستہ دوڑنا شروع کیا۔۔۔ پہلے پانچ کلومیٹر، پھر 10 کلومیٹر۔

کرن نے بتایا: ’مجھے لگا کہ اگر میں پانچ یا 10 کلومیٹر دوڑ سکتی ہوں تو اس سے زیادہ دوڑنے کا چیلنج بھی قبول کر سکتی ہوں۔‘

انھوں نے کہا، ’میں نے اپنے آپ کو ہاف میراتھن کے لیے تیار کیا یعنی 21 کلومیٹر۔ مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں تھا کہ میں کتنے وقت میں میراتھن ختم کرتی ہوں، بس مجھے ریس پوری کرنی تھی۔ حیدرآباد ہاف میراتھن میں نے ساڑھے تین گھنٹے میں مکمل کی، دہلی کی ریس 2.58 میں اور اس ماہ ممبئی میراتھن 2.44 منٹ میں مکمل کی۔‘

کرن کا کہنا ہے کہ انھوں نے افریقی بلیڈ رنر آسکر پسٹوريس سے بھی تحریک حاصل کی لیکن مصنوعی ٹانگ کی عادت ڈالنے میں وقت لگا۔

کرن نے کہا: ’مصنوعی ٹانگ لگنے سے انسان پہلے پہل یکایک بچہ ہو جاتا ہے۔ دماغ کو شروع میں پتہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس مصنوعی ٹانگ ہے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ہمیشہ ڈر رہتا ہے کہ ہم گر جائیں گے۔ ایک ایک قدم رکھنا بالکل بچوں کی طرح سکھایا جاتا ہے۔ یہ ایک دم ایک نئی زندگی کی طرح ہو جاتا ہے۔‘

کرن کہتی ہیں کہ اب وہ بھول گئی ہیں کہ ان کے پاس مصنوعی ٹانگ ہے کیونکہ اب دماغ نے اسے اپنا لیا ہے۔ تاہم بلیڈ کے سہارے بھی دوڑنا آسان نہیں ہوتا۔

Image caption کرن کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنوبی افریقہ کے معروف پیرالمپیئن آسکر پسٹوریس سے تحریک حاصل کی ہے

مشکلوں کے بارے میں کرن نے بتایا: ’شروع شروع میں دوڑنا مشکل تھا۔ دوڑنے کے لیے ایک مختلف قسم کا بلیڈ ہوتا ہے۔ یہ بلیڈ ہمیں سپورٹ دیتا ہے، جسم کو آگے کی طرف بڑھانے میں۔ آگے کی طرف بڑھانے کی وجہ سے ہم جسم کو اور اٹھا سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹانگ پر کافی دباؤ پڑتا ہے اور یہ تھوڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ مگر بغیر درد کے کچھ ملتا بھی نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں وہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘

اب کرن مسلسل میراتھن دوڑتی ہیں۔ اس سب میں انھیں والد اور اپنی کمپنی انفوسس سے بہت تعاون ملا۔ کرن بتاتی ہیں کہ مصنوعی ٹانگ انھیں کمپنی کی جانب سے ہی دی گئی تھی۔

بلیڈ رنر بننے کے بعد کرن کی زندگی کو نئی سمت و رفتار ملی ہے۔

وہ بتاتی ہیں: ’میں زندگی میں شاید بھول گئی تھی کہ میں نے جنم کیوں لیا ہے اور زندگی کا کیا مقصد ہے لیکن اب مجھے زندگی جینے کا جذبہ مل گیا ہے۔ میں نے اپنے کام کے ساتھ معاشرے کے لیے بھی کچھ کر رہی ہوں۔‘

اسی بارے میں