عامر کرکٹ کے میدان میں واپسی کے اہل ہیں یا نہیں؟

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام, کراچی
وسیم اکرم کے برعکس سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ محمد عامر کی واپسی کے حق میں نہیں ہیں
،تصویر کا کیپشن

وسیم اکرم کے برعکس سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ محمد عامر کی واپسی کے حق میں نہیں ہیں

سپاٹ فکسنگ پر پانچ برس کی پابندی بھگتنے والے پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کو آئی سی سی کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیے جانے پر رائے عامہ کی طرح پاکستان کے سابق کرکٹر بھی اس بات پر منقسم دکھائی دیتے ہیں کہ آیا محمد عامر کرکٹ کے میدانوں میں واپسی کے اہل ہیں یا نہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر وسیم اکرم اس بات کے حق میں ہیں کہ محمد عامر کو ایک موقع دینا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ عامر سے ایک غلطی سرزد ہوئی جس کی انھوں نے سزا پالی اب انھیں اپنا کریئر دوبارہ شروع کرنے سے نہیں روکنا چاہیے۔

آسٹریلیا سے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑے بڑے لوگوں نے بڑے بڑے جرم کیے، سزائیں بھگتیں اور دوبارہ زندگی شروع کی۔ ایک بچے (محمد عامر) نے کم عمری میں ایک غلطی کی جس کی سزا انھیں مل چکی۔ انھوں نے کرکٹ میں واپسی کے لیے درکار آئی سی سی کی تمام شرائط بھی پوری کر دی ہیں۔‘

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ ’انھوں (عامر) نے آئی سی سی کی ویڈیو میں اپنے کیے کی معافی بھی مانگ لی تو اسلام تو معافی اور درگزر کرتے ہوئے آگے بڑھ جانے کی بات کرتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم بحیثیت قوم محمد عامر کو معاف کر دیں اور ان کی آنے والی کرکٹ کی حمایت کریں۔‘

سابق ٹیسٹ کرکٹر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا محمد عامر کا حق ہے جسے چھینا نہیں جا سکتا لیکن جہاں تک پاکستان کی نمائندگی کا تعلق ہے اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

راشد لطیف کے خیال میں محمد عامر کا انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنا پاکستان اور خود محمد عامر کے لیے آسان نہیں ہو گا کیونکہ انھیں ان شائقین اور حریف کھلاڑیوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جو انھیں معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ان کے مطابق اس صورت حال میں محمد عامر خود پر زبردست دباؤ محسوس کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

ہمیں چاہیے کہ ہم بحیثیت قوم محمد عامر کو معاف کر دیں اور ان کی آنے والی کرکٹ کی حمایت کریں: وسیم اکرم

کیا پاکستانی کرکٹ ٹیم محمد عامر کو قبول کر لے گی؟ اس سوال پر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ محمد عامر کو ٹیم میں شامل کرے گا تو کوئی کیسے اعتراض کر سکے گا۔

وسیم اکرم اور راشد لطیف کے برعکس سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ محمد عامر کی کرکٹ کے میدانوں میں واپسی کے حق میں نہیں ہیں۔

رمیز راجہ ایک ویب سائٹ پر اپنے کالم میں لکھ چکے ہیں کہ محمد عامر کی واپسی سے پاکستانی ٹیم ایک بار پھر ’وائرس‘ یعنی سپاٹ فکسنگ کے خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔

رمیز راجہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا بھی محمد عامر کی واپسی کے شدید مخالف ہیں۔

توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ جو انسان مجرم ہے اسے پاکستانی ٹیم میں واپس آنے کا حق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جس انسان کے دل میں اپنی غلطی کا احساس نہیں اور کوئی ندامت نہیں وہ ٹیم میں آ کر یہی کام دوبارہ کرے گا اور دوسروں سے بھی کرائے گا۔

اس تمام تر صورت حال میں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی سے محمد عامر کی پابندی میں نرمی کرانے میں کامیاب ضرور ہوگیا ہے لیکن چیئرمین شہریارخان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ ٹیم میں محمد عامر کی واپسی پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹیم کے موجودہ کوچ وقار یونس اس وقت بھی ٹیم کے کوچ تھے جب2010 میں انگلینڈ کے دورے میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا تھا اور وقار یونس اور شاہد آفریدی آئی سی سی ٹرییبونل کے سامنےگواہ کے طور پر پیش ہوئے تھے۔