محمد عامر کو اجازت دینے پر پی سی بی سے جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئی سی سی نے محمد عامر کو مقامی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے کرکٹر محمد عامر کو بحال کرکے انہیں کھیلنے کی اجازت دینے کے خلاف دائر درخواست پر پاکستان کرکٹ بورڈ سے جواب طلب کرلیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شوکت علی میمن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پیر کو یہ حکم ایڈووکیٹ رانا فیض الحسن کی درخواست پر جاری کیا اور سولہ فروری کو جواب دائر کرنے کی ہدایت کی۔

رانا فیض الحسن اس سے پہلے بھی اخباری اطلاعات اور خبروں کو بنیاد بناکر کئی درخواستیں دائر کرچکے ہیں۔ اپنی حالیہ درخواست میں انھوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف پیسوں کی بدلے میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی تھی۔

درخواست گذار کے مطابق تینوں کھلاڑیوں کے کھیلنے پر پابندی عائد کی گئی اور محمد عامر کو قید کی بھی سزا ہوئی تھی لیکن کرکٹ بورڈ نے یہ پابندی ختم کرکے دوبارہ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ ملکی وقار کے خلاف ہے۔

فیض الحسن ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ پی سی بی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکر محمد عامر پر عائد پابندی کو برقرار رکھا جائے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی نے محمد عامر کو مقامی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انگلینڈ میں ایک ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام کے بعد 2010 میں کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

گزشتہ ہفتے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا تھا کہ وہ خود کو ایک اچھا کھلاڑی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ، وہ حوصلہ افزائی سے کارکردگی بہتر بناسکتے ہیں تنقید سے نہیں۔

اسی بارے میں