پاکستانی ٹیم جیت کا راستہ بھول گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال مسلسل تین ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد اب سال کا آغاز بھی شکست سے ہوا ہے لیکن یہ دو ناکامیاں اسی دیس میں ہوئی ہیں جہاں پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ کے تین میچ کھیلنے ہیں

ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو جس اعتماد کی ضرورت ہے وہ جیت سے ملتا ہے اور جیت پاکستانی ٹیم سے روٹھی ہوئی ہے۔

گذشتہ سال مسلسل تین ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد اب سال کا آغاز بھی شکست سے ہوا ہے لیکن یہ دو ناکامیاں اسی دیس میں ہوئی ہیں جہاں پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ کے تین میچ کھیلنے ہیں۔

نیپیئر میں کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں پاکستانی ٹیم اسی وقت میچ ہارگئی جب بولروں نے 369 رنز بنوا دیے۔

پاکستانی بولنگ اٹیک انھی بولروں پر مشتمل تھا جسے ورلڈ کپ میں بھارت اور جنوبی افریقہ کی مضبوط بیٹنگ لائن کے سامنے بولنگ کرنی ہے لیکن یہ بولرز راس ٹیلر کین ولیمسن اور مارٹن گپٹل کے سامنے کسی کلب کے عام بولر ثابت ہوئے۔

ولیمسن اور راس ٹیلر کو پاکستانی بولنگ کی درگت بنانے کا پہلے سے تجربہ ہے اور ان دونوں نے نیپیئر میں بھی سنچریاں داغ دیں۔

گپٹل نے سری لنکا کے خلاف سات میچوں میں صرف ایک نصف سنچری کے بعد اب ایک پراعتماد اننگز کھیلی۔

پاکستانی بولروں میں محمد عرفان کو دو وکٹیں ملیں تو جنید خان، سعید اجمل اور محمد حفیظ کے بغیر بولنگ اٹیک کے دیگر اجزا ایسے بکھرے کہ انھیں سمیٹنا مشکل ہوگیا۔

جنید خان کی جگہ نیوزی لینڈ کے دورے میں شامل کیے جانے والے بلاول بھٹی نے دس اوور ختم کیے تو ان کے دیے گئے رنز کے آگے 93 کا ہندسہ انھیں شرمسار کرنے کے لیے کافی تھا۔

بلاول بھٹی نے ون ڈے انٹرنیشنل میں مہنگی ترین بولنگ کا پاکستان کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ اس سے قبل وہاب ریاض نے 2013 میں جنوبی افریقہ کےخلاف جوہانسبرگ کے ون ڈے میں دس اووروں میں 93 رنز دیے تھے۔

احسان عادل کا حال بھی برا ہے۔ ان سے نہ بیٹسمین آؤٹ ہو رہے ہیں اور نہ ہی وہ رنز روکنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد شہزاد اور محمد حفیظ نے 111 رنز بناکر مڈل آرڈر بیٹسمینوں کے بوجھ کو خاصا کم کیا لیکن مڈل آرڈر بیٹنگ نے ان کے کیے پر پانی پھیر دیا

کپتان مصباح الحق کو حارث سہیل کےعلاوہ یونس خان اور احمد شہزاد کو بھی گیند تھمانی پڑ گئی جس سے نامکمل اور غیر موثر بولنگ اٹیک کی تصویر واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے۔

370 رنز کے بھاری بھرکم ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز بہت اچھا رہا۔ احمد شہزاد اور محمد حفیظ نے 111 رنز بناکر مڈل آرڈر بیٹسمینوں کے بوجھ کو خاصا کم کیا لیکن مڈل آرڈر بیٹنگ نے ان کے کیے پانی پھیر دیا۔

یونس خان شدید ردعمل کے نتیجے میں ٹیم میں تو آگئے ہیں لیکن اس دورے میں یہ ان کی مسلسل چوتھی ناکام اننگز تھی جس کا براہ راست اثر ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔

شاہد آفریدی کو اوپر کے نمبروں پر کھلانے کا تجربہ خود ان کے غلط شاٹ سلیکشن کے نتیجے میں کامیاب ثابت نہ ہو سکا۔

عمراکمل اور حارث سہیل نے برق رفتار ایڈم ملن کی بولنگ پر وکٹیں گنوائیں۔

کپتان مصباح الحق 51 گیندوں پر 45 رنز بناکر اس وقت آؤٹ ہوئے جب میچ میں کچھ بھی نہیں بچا تھا۔

اسی بارے میں