کیا موٹے بیٹ بلےبازوں کو ناجائز فائدہ پہنچا رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈی ویلیئرز نے 18 جنوری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلتے ہوئے صرف 31 گیندیں کھیل کر ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سینچری سکور کی تھی

برطانوی کرکٹ ٹیم کے کپتان اوؤن مورگن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ موجودہ دور کے بیٹ ضرورت سے زیادہ بھاری ہیں اور وہ بلے بازوں کی ناجائز طور پر مدد کرتے ہیں۔

عالمی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ کرکٹ کی قانون سازوں کو بلوں کی موٹائی کو کم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

یہ بات انھوں نے جنوبی افریقہ کے بلےباز اے بی ڈیویلیئرز کی جانب سے ایک روزہ میچوں کی تاریخ کی تین ترین سینچری کا ریکارڈ توڑنے کے بعد دیا تھا۔

تیز ترین سینچری کا ریکارڈ ڈی ویلیئرز کے نام

ڈی ویلیئرز نے 18 جنوری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلتے ہوئے صرف 31 گیندوں پر سینچری بنا کر اپنا نام ریکارڈ بک میں محفوظ کروا لیا تھا۔

اس کے علاوہ نومبر میں بھارتی بلے باز روہت شرما نے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار 250 کا سکور عبور کیا تھا۔

مورگن نے کہا کہ بلے کی موٹائی پر ہونے والی بحث مضحکہ خیز ہے: ’میں نے آج تک ایسا کوئی بلا نہیں دیکھا جس کے بارے میں میرا خیال ہو کہ یہ مضحکہ خیز ہے اور اس پر پابندی لگنی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا: ’آپ بلے کی موٹائی پر ساری توجہ مرکوز کر رہے ہیں حالانکہ اب دو نئی گیندوں سے بولنگ ہوتی ہے اور گیند کبھی بھی 25 اووروں سے زیادہ پرانی نہیں ہو پاتی۔ اس کے علاوہ دائرے میں بھی ایک اور فیلڈر موجود ہوتا ہے۔‘

ڈیو رچرڈسن نے کہا تھا کہ جدید بلوں نے ’کرکٹ کا توازن بلےبازوں کے حق میں موڑ دیا ہے‘ کیونکہ اب خراب شاٹیں بھی چھکا بن جاتی ہیں۔

بلے کی لمبائی اور چوڑائی کے بارے میں تو قواعد موجود ہیں لیکن کرکٹ کے قوانین کی کتابیں بلے کی موٹائی کے بارے میں خاموش ہیں۔

گذشتہ جولائی کو کرکٹ کی قواعد ساز کمیٹی ایم سی سی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ فی الحال بلے کی موٹائی کو نہ چھیڑا جائے۔

ایم سی سی کا کہنا ہے کہ وہ عالمی کپ کے دوران بلوں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔

یاد رہے کہ اس عالمی کپ میں باؤنڈریاں خاصی لمبی ہیں اور کئی میدانوں پر یہ پچ سے 90 گز سے بھی زیادہ دور ہیں، اس لیے بلےبازوں کے لیے چھکے لگانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں