موجودہ ٹیم کیا ورلڈ کپ کی سب سے کمزور پاکستانی ٹیم ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption موجودہ ٹیم کیا ورلڈ کپ کی سب سے کمزور پاکستانی ٹیم ہے؟

1992 کا عالمی کپ جیتنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ ایک ناتجربہ کار ٹیم تھی جس میں اکثریت ان کھلاڑیوں کی تھی جنہیں ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں تھا لیکن موجودہ ٹیم کے بارے میں کیا خیال ہے؟

کیا 2015 کا ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم 92 کی ٹیم سے زیادہ مضبوط اور تجربہ کار ہے یا اس سے بھی کمزور؟

1992 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے پندرہ میں سے آٹھ کھلاڑی ایسے تھے جو پہلی بار ورلڈ کپ کھیل رہے تھے ان میں عامر سہیل، انضمام الحق، عاقب جاوید، مشتاق احمد، معین خان، زاہد فضل، اقبال سکندر اور وسیم حیدر شامل تھے ان میں سے وسیم حیدر اور اقبال سکندر نے اپنے ون ڈے کریئر کی ابتدا ہی ورلڈ کپ سے کی تھی۔باقی چھ کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ ون ڈے میچز کھیلنے والے کھلاڑی مشتاق احمد اور عاقب جاوید تھے جن کے کریڈٹ پر بالترتیب 44 اور 60 وکٹیں تھیں۔

اس ٹیم میں عمران خان اور وسیم اکرم ہی دو ایسے بولرز تھے جنہیں ون ڈے انٹرنیشنل کا زیادہ تجربہ حاصل تھا۔ عمران خان 175 اور وسیم اکرم 149 وکٹیں عالمی کپ سے قبل حاصل کرچکے تھے۔

بیٹنگ میں پوری ٹیم نے 22 سنچریاں اسکور کی ہوئی تھیں جن میں سب سے زیادہ سات سنچریاں جاوید میانداد کی تھیں۔ رمیز راجہ اور سلیم ملک نے پانچ پانچ ۔ اعجاز احمد اور انضمام الحق نے دو دو جبکہ عمران خان نے ایک سنچری اسکور کی ہوئی تھی۔

عامر سہیل کو عالمی کپ سے قبل صرف پانچ اور زاہد فضل کو دس ون ڈے کھیلنے کا تجربہ تھا اور ان میچوں میں ان کی کوئی سنچری نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption پاکستان کی موجودہ کرکٹ ٹیم

موجودہ ٹیم میں 9 ایسے کھلاڑی ہیں جو پہلی بار عالمی کپ کے لیے منتخب کیے گئے ہیں ان میں ناصرجمشید، حارث سہیل، صہیب مقصود، سرفراز احمد، یاسرشاہ، سہیل خان، احسان عادل محمد عرفان اور راحت علی شامل ہیں۔

تو کیا اس کی بنیاد پر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ یہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی ابتک کی سب سے کمزور یا ناتجربہ کار ٹیم ہے؟

بیٹسمینوں میں حارث سہیل صہیب مقصود اور ناصرجمشید تین ایسے کھلاڑی ہیں جو اب تک ورلڈ کپ نہیں کھیلے ہیں لیکن مصباح الحق، عمراکمل یونس خان، ناصرجمشید، احمد شہزاد اور شاہد آفریدی کے پاس ون ڈے انٹرنیشنل کا اچھا خاصا تجربہ موجود ہے۔

مصباح الحق نے اگرچہ ابھی تک ون ڈے میں سنچری اسکور نہیں کی ہے لیکن ان کے اکاؤنٹ میں 38 نصف سنچریاں درج ہیں۔

احمد شہزاد اور شاہد آفریدی چھ ، چھ سنچریاں اسکور کرچکے ہیں۔ یونس خان کے نام کے آگے سات سنچریاں درج ہیں ۔ناصرجمشید نے تین سنچریاں بنارکھی ہیں اور عمر اکمل کی دو سنچریاں ہیں۔ اس اعتبار سے اس ٹیم نے ون ڈے انٹرنیشنل میں مجموعی طور پر 24 سنچریاں اسکور کررکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موجودہ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح

بولنگ میں شاہد آفریدی اس وقت 393 وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ ان کی وکٹوں کی تعداد 1992 کے ورلڈ کپ تک عمران خان اور وسیم اکرم کی حاصل کردہ 324 وکٹوں سے بھی زیادہ ہے۔ وہاب ریاض 61 اور محمد عرفان 57 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

موجودہ ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ آسٹریلوی کنڈیشنز سے ناواقفیت ہے۔

اس ٹیم کے گیارہ کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں ماضی میں آسٹریلیا میں ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کپتان مصباح الحق آسٹریلیا میں دو ٹیسٹ کھیل چکے ہیں لیکن انہیں بھی آسٹریلیا میں ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ ان کے علاوہ ناصرجمشید، احمد شہزاد، صہیب مقصود، حارث سہیل، وہاب ریاض، محمد عرفان، راحت علی، سہیل خان، یاسر شاہ اور احسان عادل بھی آسٹریلیا میں ون ڈے نہیں کھیلے ہیں۔ وکٹ کیپر سرفراز احمد آسٹریلیا میں صرف ایک ون ڈے کھیل پائے ہیں۔

موجودہ ٹیم کے کسی بھی بیٹسمین نے آسٹریلوی میدان میں سنچری نہیں بنائی ہے۔ عمراکمل اور شاہد آفریدی کی دو دو اور یونس خان کی صرف ایک نصف سنچری شامل ہے۔

نیوزی لینڈ کے میدانوں میں موجودہ ٹیم کے صرف ایک بیٹسمین احمد شہزاد سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔

یونس خان اور عمراکمل سات سات اننگز کھیل کر ایک بھی نصف سنچری اسکور نہیں کرسکے ہیں۔

تو 1987، 2007 اور 2011 کے تین ورلڈ کپ ایسے تھے جن میں پاکستانی ٹیم میں شامل 9 کھلاڑی پہلی بار ورلڈ کپ کھیل رہے تھے۔ 1987 اور 2011 میں کنڈیشنز پاکستانی ٹیم کے حق میں تھیں اور پاکستانی ٹیم نے دونوں مرتبہ سیمی فائنل کھیلا تھا لیکن 2007 میں پاکستانی ٹیم پہلے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی تھی۔

1975 میں کھیلے گئے پہلے ورلڈ کپ کی پاکستانی ٹیم کے بارے میں بھی یہ کہاجاتا ہے کہ وہ سب سے کمزور ٹیم تھی لیکن دیکھا جائے تو اس ٹیم کی اکثریت بھی انگلینڈ میں ٹیسٹ ون ڈے کاؤنٹی اور لیگ کھیلنے کا تجربہ رکھتی تھی۔

اسی بارے میں