ہیوز کی موت کے بعد کرکٹ ہیلمٹ کے نئے ڈیزائن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئی سی سی نے بھی حالیہ سالوں میں ہیلمٹ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی سفارشات دی ہیں۔

ایک برطانوی کمپنی نے کرکٹرز کے لیے ہیلمٹ کے نئے ڈیزائن بنائے ہیں جس سے مستقبل میں بلے بازوں کو حادثاتی موت سے بچنے میں مدد مل سکے گی۔

آسٹریلوی بلے باز فلپ ہیوز کے میدان میں زخمی ہونے اور پھر انتقال کے بعد سے بلے بازوں کی حفاظت کے بارے میں ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے۔

ہیمپشائر میں قائم ہیلمٹ بنانے والی فرم میزوری نے بی بی سی کو ہیلمٹ کے وہ نئے ڈیزائن دکھائے جن میں سر کے پچھلے حصے کے لیے اضافی حفاظت موجود ہے۔

فلپ ہیوز گذشتہ برس نومبر میں سر کے پچھلے حصے پر ہی گیند لگنے سے دو روز کوما میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

فلپ ہیوز کو جس وقت سر پر گیند لگی تھی وہ اسی برطانوی فرم کا بنایا ہوا ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔

ان کی موت کے بعد کمپنی نے تحقیق کی اور سٹیم گارڈ نامی آلہ بنایا ہے، جو کہ فوم اور ربڑ سے بنا ہے اور ہیلمٹ کے پیچھے اضافی حفاظت کے لیے لگایا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے لیے ڈیزائن کے مشیر ایلن میکس نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا ’یہ ہیلمٹ ہلکے ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک چوٹ سے بچانے کے لیے کافی مضبوط بھی ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ فوم اور ہنی کومب سے بنا یہ ہیلمٹ اتنی ہی حفاظت کرتا ہے جتنی کہ ایک سخت ہیلمٹ اور یہ گیند کے لگنے سے پیدا ہونے والی شدت کو جذب کرنے صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

کرکٹ کے عالمی ادارے آئی سی سی نے بھی حالیہ سالوں میں ہیلمٹ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی سفارشات دی ہیں۔

دوسری جانب مختصر دورانیے کی ٹی 20 کرکٹ میں کھللاڑیوں کے جارحانہ انداز میں نت نئے انداز کے سٹروکس کھیلنے کے بڑھتے رجحانات کے پیشِ نظر تحقیق اور منصوبہ بندی کرنے والوں کی تمام تر توجہ بلے بازوں کے چہرے کو بچانے پر مرکوز ہوگئی ہے۔

میزوری کے مینیجنگ ڈائریکٹر سیم ملر کا کہنا ہے کہ ’آسٹریلوی بلے باز فلپ ہیوز کی موت نے سب کچھ بدل دیا ہے اور اس کا لوگوں پر اثر بھی پڑا ہے پر میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت کوئی بھی ایسا ہیلمٹ موجود تھا جو فلپ ہیوز کو بچا سکتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہیلمٹ کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ماضی میں بھی بات ہوتی رہی ہے لیکن اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تھی۔

سٹیم گارڈ کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا جاتا رہا ہے اور اس کی ڈیزائننگ کے مراحل کے دوران بین الاقوامی کرکٹ بورڈز کے ساتھ مشاورت بھی کی جاتی رہی ہے۔