بولر جو ٹورنامنٹ کا رخ بدل سکتے ہیں

کرکٹ ورلڈ کپ 2015 میں مختلف ٹیموں کے پانچ اہم کھلاڑیوں کی کارکردگی پر خاص نظر رہے گی جو اپنی بہترین کارکردگی سے ٹورنامنٹ کا رخ بدل سکتے ہیں۔

ایڈم ملن (نیوزی لینڈ)

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایڈم ملن 17 سال کی عمر میں اپنے اسکول کے تیز ترین بولر تھے

نیوزی لینڈ نے جب 1992 کے عالمی کپ کی مشترکہ میزبانی کی تھی اور سیمی فائنل کھیلا تھا اس وقت ایڈم ملن ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ آج 23 سال بعد جب نیوزی لینڈ دوبارہ عالمی کپ کا مشترکہ میزبان ہے وہ ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ ہیں۔

ایڈم ملن 17 سال کی عمر میں اپنے سکول کے تیز ترین بولر تھے کہ سینٹرل ڈسٹرکٹس نے مائیکل میسن کے متبادل کے طور پر انھیں طلب کرکے چونکا دیا۔

ملن نے اپنے پہلے فرسٹ کلاس میچ میں دوسری ہی گیند پر وکٹ حاصل کر ڈالی اور میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں۔

اس عمدہ کارکردگی پر سینٹرل ڈسٹرکٹس نے انھیں چیمپیئنز لیگ کے سکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا اور وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے ممکنہ 30 کھلاڑیوں میں بھی شامل کیے گئے۔ وہیں سے ہوتے ہوئے وہ بین الاقوامی کرکٹ تک آ پہنچے۔

ایڈم ملن نے سنہ 2010 میں پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی کریئر کی ابتدا کی اگرچہ دونوں میچوں میں وہ خاصے مہنگے ثابت ہوئے لیکن ایک 18 سالہ بولر کا 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنا دیکھنے والوں کو متاثر کر گیا۔

ایڈم ملن نے سنہ 2012 کے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ایک میچ کھیلا جو پاکستان کے خلاف تھا اس میچ میں وہ صرف ایک اوور کرا پائے جس میں انھوں نے 12 رنز دے ڈالے تھے۔

ملن نے گذشتہ سال ویسٹ انڈیز کے خلاف آک لینڈ کے ٹی ٹوئنٹی میچ 153.2 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی۔

ملن کے کوچ شین بونڈ ہیں جو خود ایک تیز رفتار بولر تھے۔ انھوں نے سنہ 2003 کے عالمی کپ میں 156.4 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کی تھی لیکن ان کا کریئر فٹنس مسائل سے دوچار رہا۔

ملن کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ جس رفتار سے وہ بولنگ کر رہے ہیں انھیں اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھنا ہو گا۔

ایڈم ملن گو کہ ابھی تک ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں بہت زیادہ کامیابیاں سمیٹ نہیں پائے ہیں لیکن ان کی تیز گیندیں حریف بیٹسمینوں کے سکون میں خلل ڈالنے میں ضرور کامیاب ہوئی ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ عالمی کپ میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

کرکٹ کے مبصرین اور ماہرین نیوزی لینڈ کے بولنگ اٹیک کے بارے میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اسے کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سٹیون فن (انگلینڈ)

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سڈنی میں ان کی تین وکٹوں نے بھارتی اننگز کو صرف دو سو تک محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا

سٹیون فن کا سب سے بڑا تعارف تو یہی ہے کہ ان کی وجہ سے کرکٹ کے قوانین میں تبدیلی کرنی پڑ گئی۔

بولنگ کرتے ہوئے ان کی عادت تھی کہ وہ سٹمپس کو گھٹنا مارتے ہوئے بیلز گرا دیتے تھے۔ انھیں یہ حرکت اس وقت مہنگی پڑی جب جنوبی افریقہ کے گریم سمتھ نے ہیڈنگلے ٹیسٹ میچ امپائروں کی توجہ اس جانب دلائی کہ یہ حرکت بیٹسمینوں کی توجہ ہٹانے کے مترادف ہے، چنانچہ امپائر نے وہ گیند ڈیڈ قرار دے دی اور بعد میں ایسی تمام گیندیں نوبال کے زمرے میں آ گئیں جن پر وکٹ گری ہو لیکن بولر نے نان سٹرائیکر اینڈ پر سٹمپس سے ٹکراتے ہوئے بیلز گرائی ہوں۔

اس متنازع حرکت کے باوجود سٹیون فن کی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں۔ وہ تینوں فارمیٹس میں کامیاب رہے ہیں۔

سٹیون فن نے 56 سال کے عرصے میں مڈل سیکس کے سب سے کم عمر کرکٹر کے طور پر فرسٹ کلاس شروع کی اور 21 سال کی عمر میں ٹیسٹ کیپ سر پر سجانے میں کامیاب ہو گئے۔ سلیکٹروں کو ان کی شکل میں سٹیو ہارمیسن کا متبادل مل گیا۔

سٹیون فن نے اپنے تیسرے ہی ٹیسٹ میں نو وکٹوں کی عمدہ کارکردگی پر مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کر لیا۔

سٹیون فن نے اس کے بعد ایشیز سیریز میں بھی متاثر کن بولنگ کی اور پرتھ میں کریئر بیسٹ 125 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔ اس کارکردگی کو انھوں نے سنہ 2013 میں نیوزی لینڈ کے خلاف آ ک لینڈ ٹیسٹ میں بھی دوہرایا لیکن سنہ 2013 کے بعد سے وہ ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل پائے ہیں البتہ محدوو اووروں کی کرکٹ میں وہ باقاعدگی سے دکھائی دیے ہیں۔

ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا میں کھیلی گئی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں سٹیون فن نے بہت عمدہ بولنگ کی جس میں بھارت کے خلاف برزبین میں کریئر کی بہترین بولنگ بھی شامل ہے جب انھوں نے 33 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

بھارت ہی کے خلاف سڈنی کے اہم میچ میں ان کی تین وکٹوں نے بھارتی اننگز کو صرف 200 رنز تک محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مچل سٹارک (آسٹریلیا)

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مچل اسٹارک نےمختصر سے وقت میں تجربہ کار بولروں کے درمیان جگہ بنائی ہے

آسٹریلیا اس وقت تیز بولنگ کے مسائل سے آزاد ہے، اس کا سبب فاسٹ بولنگ کا اسلحہ خانہ ہتھیاروں سے بھرا رہنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کسی بھی تیز بولر کے ان فٹ ہونے پر آسٹریلوی کرکٹ حواس باختگی کا شکار نہیں ہوتی اور ایک نہ ایک فٹ بولر ہر وقت ٹیم میں آنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

مچل سٹارک ایک ایسے نوجوان فاسٹ بولر ہیں جنھوں نےمختصر سے وقت میں تجربہ کار بولروں کے درمیان جگہ بنائی ہے اور اپنی عمدہ کارکردگی سے اپنی اہمیت بھی جتائی ہے۔

مچل سٹارک نے اگرچہ 15 ٹیسٹ میچ کھیل کر وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کر رکھی ہے تاہم وہ محدود اووروں کی کرکٹ میں زیادہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

اپنے پہلے 17 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں انھوں نے تین مرتبہ پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی دکھائی جن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو مسلسل میچوں میں پانچ وکٹیں شامل تھیں۔ یہ دونوں میچ پرتھ میں تھے لیکن آسٹریلیا سے باہر کی کنڈیشنز میں بھی وہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب رہے ہیں۔

سٹارک نے سنہ 2012 میں پاکستان کےخلاف شارجہ کے پہلے ون ڈے میں 42 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں اور پھر شارجہ کے تیسرے ون ڈے میں ایک بار پھر بیٹسمینوں پر دھاک بٹھائی اور چار وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

گذشتہ سال وہ پاکستان کے خلاف صرف ایک ون ڈے کھیل پائے لیکن آسٹریلیا واپس جاتے ہی انھوں نےجنوبی افریقہ کے خلاف کینبرا کے ون ڈے میں چار وکٹیں حاصل کیں۔

بھارت اور انگلینڈ کےخلاف سہ فریقی ون ڈے سیریز میں بھی مچل اسٹارک نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف سڈنی میں چار وکٹیں حاصل کیں اور پھر میلبرن میں بھارت کے خلاف اپنے کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے چھ وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

یہ کارکردگی ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کےلیے حوصلہ افزا ہے اور وہ اپنے اس نوجوان فاسٹ بولر سے بجا طور پر توقع رکھے ہوئے ہے کہ جو کچھ ابھی دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ورلڈ کپ میں بھی نظر آئے گا۔

ٹم ساؤدی (نیوزی لینڈ)

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹم ساؤدی رفتار کو سوئنگ کےساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے بیٹسمینوں کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں

جنوبی افریقہ کے شہرۂ آفاق فاسٹ بولر ایلن ڈونلڈ نے ٹم ساؤدی کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں دنیا کا بہترین سوئنگ بولر بننے کی صلاحیت موجود ہے۔

ٹم ساؤتھی ان کے الفاظ میں اگر بہترین نہ سہی لیکن عصرحاضر کے چند اچھے سوئنگ بولروں میں شامل رہتے ہوئے نیوزی لینڈ کو کئی کامیابیوں سے ہمکنار کرتے چلے آئے ہیں۔

ٹم ساؤدی رفتار کو سوئنگ کےساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئےبیٹسمینوں کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی خصوصیت نے انھیں اس وقت نیوزی لینڈ کے پیس اٹیک میں مرکزی حیثیت دے رکھی ہے۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اس عالمی کپ میں اپنے تمام گروپ میچ ہوم گراؤنڈز پر کھیلنے ہیں اور ٹم ساؤدی سے زیادہ ان کنڈیشنز کو بہتر کون جان سکتا ہے۔

ٹم ساؤدی نے ون ڈے انٹرنیشنل میں 112 وکٹیں حاصل کررکھی ہیں جن میں سے 42 نیوزی لینڈ کے میدانوں میں حاصل کی گئی ہیں جن میں کریئر بیسٹ 33 رنز کے عوض پانچ وکٹوں کی کارکردگی بھی شامل ہے جس کا نشانہ پاکستانی بیٹسمین بنے تھے۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ٹم ساؤدی صرف ہوم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے والے بولر ہیں۔ انھوں نے ملک سے باہر ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 70 وکٹیں حاصل کررکھیں ہیں جن میں 2011 کے عالمی کپ میں صرف آٹھ میچوں میں 18 وکٹوں کی قابل ذکر کارکردگی بھی شامل ہے۔

ٹم ساؤدی نچلے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے چھکے لگانے کی عادت کے لیے بھی مشہور ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی اننگز کو چھکے کے بغیر نامکمل سمجھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے ٹیسٹ کریئرمیں 52 چھکے لگاچکے ہیں جو نیوزی لینڈ کے کسی بھی بیٹسمین کے چھکوں کی چوتھی بڑی تعداد ہے۔

ٹم ساؤدی نے اپنے اولین ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے خلاف پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 77 رنز کی ناقابل شکست اننگز میں ان کے نو چھکے آج بھی دیکھنے والے نہیں بھولے ہیں۔

محمد عرفان (پاکستان)

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عرفان کی ذمہ داری میں خاصا اضافہ ہوچکا ہے

سات فٹ ایک انچ طویل قامت فاسٹ بولر محمد عرفان عصر حاضر کی کرکٹ کے سب سے منفرد کھلاڑی ہیں۔ دیکھنے والوں کو وہ منظر بہت دلچسپ معلوم ہوتا ہے جب وکٹ گرنے پر ساتھی کرکٹر اچھل اچھل کر محمد عرفان کو مبارکباد دے رہے ہوتے ہیں۔

محمد عرفان جب کھیلیں جہاں کھیلیں مرکز نگاہ بن جاتے ہیں۔ان کے بارے میں متفقہ رائے یہ ہے کہ وہ دراز قد کی وجہ سے آسٹریلوی باؤنسی وکٹوں پر بیٹسمینوں کو کٹھ پتلی تماشا بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اس مقصد کے لیے ان کا فٹ ہونا شرط ہے۔

خود محمد عرفان کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ان کا فٹ رہنا پاکستانی ٹیم کے لیے کتنا ضروری ہے۔

عمرگل کی غیرموجودگی اور جنید خان کی ڈانواں ڈول فٹنس کے بعد محمد عرفان کی ذمہ داری میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے اور وہ ورلڈ کپ کے اہم چیلنج کے لیے بہت پرامید دکھائی دیتے ہیں۔

گگو منڈی کی پلاسٹک پائپ کی فیکٹری سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فرنٹ لائن بولر تک کے سفر میں محمد عرفان نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔

کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ کی وجہ سے انھوں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ کلب کرکٹ کھیل کر اپنا شوق جاری رکھا کہ اسی دوران سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کی کوششوں سے وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی پہنچ گئے۔

محمد عرفان کو کریئر میں سب سے زیادہ مشکل اپنی ہی فٹنس کی وجہ سے رہی ہے۔

غیرمعمولی جسمانی ساخت کی وجہ سے خود کو سنبھال کر بولنگ کرنا ان کے لیے آسان نہیں رہا اسی لیے وہ متعدد مرتبہ ان فٹ ہوکر ٹیم سے باہر رہے ہیں۔

2003 میں جنوبی افریقہ کےخلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی سیریز میں سو سے زائد اووروں کی طویل بولنگ نے انھیں کولہے کے ہیئرلائن فریکچرمیں مبتلا کردیا جس کے نتیجے میں وہ سری لنکا کے خلاف سیریز اور گذشتہ سال ایشیا کپ اور آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے سے محروم ہو گئے۔

سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے عرفان کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ اپنے کریئر کو طول دینا چاہتے ہیں تو خود کو صرف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تک محدود کر لیں، لیکن عرفان تینوں فارمیٹس کھیلنا چاہتے ہیں۔

محمد عرفان بھارت کی بے جان وکٹوں پر بھی حریف بیٹسمینوں کےلیے مشکلات کا سبب بنے تھے اور جنوبی افریقی وکٹوں پر انھیں اپنے قد سے بہت مدد ملی تھی اور انھوں نے چار ون ڈے میں 11 وکٹیں حاصل کی تھیں جن میں سنچورین میں 33 رنز کے عوض چار وکٹوں کی کریئر کی بہترین بولنگ بھی شامل ہے۔

گذشتہ سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل آٹھ ون ڈے میچ کھیل کر انھوں نے اپنے فٹ ہونے کی سند دے دی۔ ان آٹھ میچوں میں انھوں نے 75 اوورز کیے اور ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 12 رہی تھی۔

اسی بارے میں