بھارت سے میچ: ’ٹیم ریڈی نہیں تو ریڈی ہونا پڑے گا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے رکن اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کی تیاریاں سو فیصد نہیں لیکن بھارت کے خلاف میچ کے لیے کھلاڑیوں کو تیار ہونا ہی ہوگا۔

آسٹریلوی شہر ایڈیلیڈ میں بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں آفریدی کا کہنا تھا کہ عالمی کپ جیسے بڑے ایونٹ میں دوسری ٹیمیں موقع نہیں دیتیں اس لیے ٹیم کی کمزوریوں کو جلد از جلد دور کیا جانا ضروری ہے۔

ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کی تیاری کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’دو وارم اپ میچز تھے وہ دونوں ہم جیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اتنا بڑا ایونٹ کھیلنے آتے ہیں اور ورلڈ کی ٹاپ ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہیں تو آپ کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی کمزوریوں کو جلد از جلد ختم کر لیا جائے تو اسی کی کوشش ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اس ٹورنامنٹ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

’میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہماری تیاریاں سو فیصد ہیں، ہاں اس کے قریب ہیں لیکن یہ ہے کہ اتنے بڑے ایونٹ کے لیے آپ کی تیاری سو فیصد ہونی چاہیے۔‘

شاہد آفریدی نے کہا کہ ’آج کل کرکٹ بہت تیز ہو گئی ہے اور دوسری ٹیمیں موقع نہیں دیتیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ چاہے وہ بیٹنگ ہو بولنگ ہو یا فیلڈنگ ہمیں جلد از جلد کور کرنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین سے چار برس میں پاکستانی بولنگ میں اہم کردار سپنرز کا ہی رہا ہے اور اب سعید اجمل اور محمد حفیظ جیسے دو اہم سپنرز کے نہ ہونے سے کارکردگی پر فرق پڑ سکتا ہے۔

’سعید اجمل، محمد حفیظ اور میں، ہم تینوں نے ہی کارکردگی دکھائی۔ فاسٹ بولرز میں انجریز کافی آگئیں تو اس وقت فاسٹ اور سپن بولرز کو کافی محنت کرنی پڑے گی۔‘

پاکستان اور بھارت کے میچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے تجربہ کار آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت بڑا میچ ہے اور اگر ٹیم تیار نہیں ہے تو اسے تیار ہونا پڑے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیشہ ایسا ہوا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے میچ سے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں، دیکھنا پسند کرتے ہیں جو کرکٹ نہیں بھی دیکھتا وہ بھی دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔‘

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف میچ میں سو فیصد کارکردگی دکھائے گی: ’لڑکوں کو پتا ہے کہ کتنا خاص میچ ہے اور میں انفرادی طور پر اور ٹیم کے ساتھ کوشش کروں گا کہ جتنا ہم اس میچ میں لطف لے کر کھیلیں اتنا ہی اچھا ہوگا۔‘

انھوں نے ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے کسی ایک ٹیم کو فیورٹ قرار دیا نہیں دیا اور کہا کہ ساری ٹیمیں تیاریاں کر کے آتی ہیں اور کسی بھی ٹیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کارکردگی چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو ٹیم کے کام آنی چاہیے: شاہد آفریدی

’چار سال بعد یہ اتنا بڑ ایونٹ ہوتا ہے۔ تاریخ میں بہت سی چھوٹی ٹیموں نے بڑی ٹیموں کو ہرا کر اپ سیٹس کیے ہوئے ہیں تو کسی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پچھلے ریکارڈ دیکھیں تو آسٹریلیا بہت اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے، نیوزی لینڈ ایک اچھی ٹیم بن کے سامنے آئی ہے اور جنوبی افریقہ کا آپ کہہ سکتے ہیں یہ اچھی ٹیموں میں سے ہیں۔‘

ورلڈ کپ میں تیز ترین سنچری بنانے کی کوشش کے سوال پر شاہد آفریدی نے کہا کہ ’ایسے سوچ کر کوئی بندہ ریکارڈ بنانے کی کوشش نہیں کرتا۔ہاں آپ کی خواہش ہوتی ہے آپ چاہتے ہو کہ ایسا ہو۔لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں آج یہ کر کے دکھاؤں گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 17 سال یہ ریکارڈ ان کے پاس رہا جو بہت فخر کی بات ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کارکردگی چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو ٹیم کے کام آئے۔

سڈنی میں ہوٹل دیر سے آنے پر ان سمیت آٹھ کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کیے جانے کے معاملے پر آفریدی نے کہا کہ ایسی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے اور میڈیا کے پاس جب خبر نہ ہو تو اسے ایسے واقعات کی تشہیر میں مزا آتا ہے۔

انھوں نے کہ ’ہم کھانا کھانے گئے تھے۔ ہم آسٹریلیا میں ہیں لاڑکانہ یا ٹھٹھہ میں نہیں ہیں اور یہاں ریسٹورنٹ میں کلب بھی ہوتے ہیں ان کے اپنے۔ تو ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم آٹھ لڑکے گئے تھے کھانا کھایا اور واپس آگئے۔‘

اسی بارے میں