’غلطی معاف کی جا سکتی ہے لیکن مستی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سختی صرف ان کے لیے ہیں جو اپنا کام دیانت داری سے نہیں کرتے: نوید چیمہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینیجر نوید اکرم چیمہ نے ٹیم کے آٹھ کھلاڑیوں کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی اور مستی میں فرق ہوتا ہے اور غلطی معاف کی جا سکتی ہے لیکن مستی نہیں۔

پاکستانی ورلڈ کپ سکواڈ کے آٹھ کھلاڑیوں پر یہ جرمانہ سڈنی میں وارم اپ میچوں سے قبل اس وقت کیا گیا تھا جب وہ رات گئے ہوٹل سے باہر پائے گئے تھے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے نوید اکرم چیمہ نے کہا کہ ’کرفیو ٹائم‘ کھلاڑیوں کی سہولت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے تاکہ وہ مکمل طور پر آرام کرسکیں اور ان پرستاروں سے دور رہیں جو ان کے آرام میں مخل ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کھلاڑی مقررہ وقت پر ہوٹل واپس نہیں لوٹے تھے جس پر انہوں نے ان پر جرمانہ عائد کیا جو ضروری بھی تھا اور ان کرکٹرز کے لیے سبق تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے اس ایکشن کے بعد ٹیم نے دونوں وارم اپ میچز جیتے۔

نوید اکرم چیمہ نے جو معین خان کی جگہ طویل المعیاد بنیاد پر پاکستانی ٹیم کے مینیجر بنے ہیں واضح کیا کہ وہ نظم و ضبط کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

’کھلاڑیوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھائی گئی ہے کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کررہے ہیں اور ان کا طرز عمل ایسا ہو جس سے ملک کا نام روشن ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹیم کے آٹھ کھلاڑیوں کو کھانے پر مدعو کیا گیا تھا جہاں سے وہ دیر سے لوٹے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی سخت گیر مینیجر ہیں لیکن ان کی سختی صرف ان کے لیے ہیں جو اپنا کام دیانت داری سے نہیں کرتے۔

نوید چیمہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اصول پسند ہیں اور جو کام وہ دوسروں سے کروانا چاہتے ہیں وہ خود بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی قابل تعریف ہیں جو ان کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

نوید اکرم چیمہ نے کہا کہ انہیں موجودہ ٹیم کی صلاحیتوں کا اندازہ ہے اور انہیں قوی امید ہے کہ یہ ٹیم بھارت کو ہراکر قوم کو خوش خبری ضرور سنائے گی۔

خیال رہے کہ پاکستانی ٹیم کے رکن شاہد آفریدی نے حال ہی میں بی بی سی اردو سے بات چیت میں کہا تھا کھلاڑیوں کو جرمانے جیسی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے اور میڈیا کے پاس جب خبر نہ ہو تو اسے ایسے واقعات کی تشہیر میں مزا آتا ہے۔

اسی بارے میں