ایڈیلیڈ میں میچ سے زیادہ میلے کا سماں

Image caption میچ کی کشش دنیا بھر سے شائقین کی بہت بڑی تعداد کو ایڈیلیڈ کھینچ لائی ہے

ایڈیلیڈ اوول کی طرف آتے ہوئے کانوں میں گانے ’چک دے انڈیا‘ کی گونج سنائی دی تو اندازہ ہوگیا کہ کرکٹ کے دیوانے میچ شروع ہونے سے گھنٹوں پہلے ہی میدان کے باہر اپنے ڈیرے لگا چکے ہیں۔

قریب آ کر ماحول پر نظر ڈالی تو ایسا لگا کہ جیسے یہ کرکٹ میچ نہیں بلکہ کسی ثقافتی فیسٹیول کا منظر ہو۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2015: خصوصی ضمیمہ

میوزک پر ایک جانب بھارتی شائقین ناچ گانے میں مصروف تھے تو دوسری طرف پاکستانی شائقین کی ٹولیاں پشاوری میوزک پر رقص کرتے ہوئے ان کا جواب دینے کے لیے تیار تھیں ۔

کسی کے ہاتھ میں جھنڈے تو کسی کے چہرے پر پرچموں کے رنگ۔ ہر کوئی خوش اور میچ شروع ہونے کے انتظار میں تھا لیکن اپنا کھیل کھیل رہے تھے۔

اس میچ کی کشش دنیا بھر سے شائقین کی بہت بڑی تعداد کو ایڈیلیڈ کھینچ لائی ہے اور یہاں کے ہوٹل ان شائقین سے کئی روز سے بھرے ہوئے ہیں۔

Image caption سنڈے میل نے منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

ایڈیلیڈ اوول تزئین وآرائش کے بعد خوبصورت شکل اختیار کر چکا ہے ایسے میں مختلف سٹینڈ میں لہراتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے پرچموں کے ساتھ شائقین کے گونجنے والے نعروں اور سیٹیوں کے شور نے پاک بھارت میچ کی روایتی سحر انگیزی میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس میچ کو آسٹریلوی ذرائع ابلاغ نے بھی بڑی اہمیت دی ہے اور یہاں کے تمام اخبارات نے اس میچ کے بارے میں خبریں شہ سرخیوں میں شائع کی ہیں۔

سنڈے میل نے اس معاملے میں منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

اس اخبار نے اپنے صفحہ اول پر دو ہزار گیارہ کا عالمی کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کی تصویر شائع کی ہے اور اس پر ہندی میں سرخی ہے۔ سواگتم یعنی خوش آمدید۔

اخبار کے آخری صفحے پر اردو میں جلی حروف میں لکھا ہے خوش آمدید اور اس کے نیچے انیس سو بانوے کا عالمی کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کی تصویر ہے۔

اسی بارے میں