ایڈیلیڈ خالی، سڈنی میں کرسیاں چل گئیں

Image caption ایڈیلیڈ کے ہوٹلوں میں قیام پذیر افراد نے اپنے اپنے شہروں کا رخ کیا ہے

پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ کپ کے میچ کے بعد ایڈیلیڈ کا شہر ایک بار پھر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آیا ہے۔

شہر کے ہوٹل خالی ہوگئے ہیں اور دوسرے شہروں سے آنے والے شائقین کی واپسی ہو رہی ہے۔

یہ میچ دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے پاکستانی اور بھارتی شائقین کی بہت بڑی تعداد ایڈیلیڈ پہنچی تھی اور کئی ماہ پہلے سے ہوٹلوں کی بکنگ کرائی گئی تھی۔

گذشتہ چند روز سے ایڈیلیڈ میں میلے کا سماں تھا۔

دس لاکھ آبادی والے اس شہر کی سڑکوں پر شائقین کی ٹولیاں جابجا دکھائی دے رہی تھیں اور شہر کے مرکزی علاقے میں واقع کھانے پینے کے ایشیائی ریستورانوں پر لوگوں کا تانتا بندھا رہا اور ایسےمواقع بھی آئے کہ کئی ریستورانوں میں کھانا ختم ہوگیا۔

میچ میں پاکستان کی شکست کے بعد جہاں پاکستانی شائقین مایوسی کے عالم میں سٹیڈیم سے واپس لوٹے وہیں بھارتی شائقین بلند آواز میں موسیقی لگا کر رقص اور نعروں کے ساتھ جیت کا جشن رات گئے تک مناتے رہے۔

ایڈیلیڈ میں تو حالات قابو میں رہے لیکن سڈنی میں پاک بھارت میچ دیکھنے والے آپس میں لڑ پڑے اور انہوں نے کرسیاں اور ٹیبلز پلٹ ڈالیں جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوگئے اور انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔

یہ واقعہ میری لینڈز کلب میں پیش آیا جہاں میچ دکھانے کے لیے بڑی سکرین لگائی گئی تھی۔

پولیس جھگڑے کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس سلسلے میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ان لوگوں کی شناخت کی جارہی ہے جو ہنگامہ آرائی کا سبب بنے۔

کلب کے چیف ایگزیکٹیو کے مطابق 40 افراد اس گڑبڑ کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے ایک چھکا لگنے پر غیرضروری طور پر جوش وخروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرسیاں پھینکنی شروع کر دی تھیں۔

اسی بارے میں