نیوزی لینڈ کا پلڑا بھاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ پر نفسیاتی برتری حاصل ہے

کرکٹ ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان جمعے کو ہونے والے میچ میں بظاہر نیوزی لینڈ کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔

نیوزی لینڈ نے اب تک دو میچز کھیلے ہیں اور دونوں میں اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا عالمی کپ 2015 کا آغاز کچھ اچھا نہیں رہا۔ انگلش ٹیم کو اپنے پہلے ہی میچ میں آسٹریلیا سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیوزی لینڈ نے اپنے آخری چار ورلڈ کپ میچوں میں انگلینڈ کو شکست دی ہے۔

ویلنگٹن کے ویسٹ پیک سٹیڈیم کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ نے اپنے آخری دو دوروں کے دوران اس میدان پر دونوں بار ہار کا منہ دیکھا ہے جبکہ نیوزی لینڈ نے اپنے آخری 11 ایک روزہ میچوں میں سے نو میں کامیابی حاصل کی ہے۔

2007 کے کرکٹ ورلڈ کپ سے اب تک انگلینڈ کے سٹار بولر جیمز اینڈرسن بھی نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز برینڈن میکلم کو کچھ زیادہ پریشان نہیں کر پائے ہیں۔

جیمز اینڈرسن اس عرصے کے دوران اب تک تین ہی بار برینڈن میکلم کو آؤٹ کر پائے ہیں۔

دوسری جانب انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق بیٹنگ کوچ اور کپتان گریھم گووچ بھی انگلش کرکٹ ٹیم کی حالیہ کاکردگی سے مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میچ ہارنے میں کوئی بےعزتی نہیں لیکن انگلینڈ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف میچ میں جیسے رنز دیے وہ شرمناک تھا۔

اسی بارے میں