تیس چالیس نہیں بڑی اننگز کی ضرورت ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح الحق نے بھارت کے خلاف میچ میں نصف سنچری سکور کی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو یہ بات بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ورلڈ کپ کا دوسرا میچ ان کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے اور وہ بیٹسمینوں سے توقع کررہے ہیں کہ وہ اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

مصباح الحق نے کرائسٹ چرچ میں ٹیم کی پریکٹس کے موقع پر کہا کہ وہ بیٹسمینوں کی کارکردگی کے ضمن میں گھبراہٹ کا شکار نہیں ہیں کیونکہ تمام بیٹسمینوں کی فارم اچھی ہے مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ بیٹسمین اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کو بڑی پارٹنرشپس کی ضرورت ہے۔

سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے کے بارے میں سوال پر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ان کی سوچ مثبت اور واضح ہے کہ یہ سینئر کرکٹرز اسی لیے کھیل رہے ہیں کہ جب وہ کلک کرینگے تو کسی بھی ٹیم کے خلاف میچ جتواسکتے ہیں۔ ہمیں یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ اگر یہ پرفارم نہیں کرینگے تو انہیں ڈراپ کردیا جائے گا۔

مصباح الحق نے خود نمبر تین پر بیٹنگ کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ نمبرتین پر بیٹنگ کرتے ہیں اور ان کے بعد آنے والے بیٹسمین سکور نہیں کرتے ہیں تو پھر کیا ہوگا؟۔

مصباح الحق نے کہا کہ وہ نمبر تین پر اسی صورت میں بیٹنگ کریں جب ابتدائی وکٹیں جلد گرجائیں لیکن معاملہ یہ نہیں ہے کیونکہ بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم دو وکٹوں پرایک سودو رنز بناچکی تھی اس میچ میں مڈل آرڈر بیٹنگ ناکام ہوئی تھی۔

مصباح الحق نے کہا کہ جس طرح اس عالمی کپ میں تین سو رنز بن رہے ہیں یہ فیلڈنگ کے قوانین کا نتیجہ ہیں اور اس صورت میں بولرز کے لیے تین سو رنز روکنا آسان نہیں اس کا واحد حل یہی ہے کہ وکٹیں وقفے وقفے سے حاصل کی جائیں۔

مصباح الحق نے ویسٹ انڈین کپتان کے اس بیان پر کہ وہ یونس خان شاہد آفریدی اور محمد عرفان کو ٹارگیٹ بنائیں گے ، اللہ کرے کوئی ٹیم عرفان کو ٹارگیٹ بنائے کیونکہ اسی صورت میں عرفان کو وکٹیں ملیں گی۔

اسی بارے میں