بدسلوکی کرنے والے فٹبال مداحوں کو سزا دینے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY IMAGES
Image caption موبائل فون پر بنائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک سیاہ فام شخص مسلسل پر ہجوم میٹرو ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے بار بار باہر دھکیل دیا جاتا تھا

پیرس میں چیلسی فٹ بال کلب کے ایک سیاہ فام مداح نے انھیں ٹرین میں سوار ہونے سے روکنے اور ان کے خلاف نسل پرست نعرے لگانے والے گروہ کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹرین میں سوار ہونے سے روکنے والے 33 سالہ سیاہ فام شخص سلیمان نے فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ انھیں ٹرین میں سوار ہونے سے روکنے والے انگلش مداحوں کو گرفتار کیا جائے۔

فٹ بال مداحوں کی سیاہ فام شخص کے ساتھ بدسلوکی

سیاہ فام شخص کے مطابق وہ ’اس سلوک سے زیادہ پریشان نہیں ہوئے کیونکہ وہ نسلی امتیاز کے ساتھ رہتے ہیں۔‘

پیرس میں پیدا ہونے والے تین بچوں کے والد سلیمان نے بتایا کہ وہ مداحوں کی بات سمجھنے سے قاصر رہے تاہم وہ یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سلوک ان کے رنگ کی وجہ سے کیا گیا۔

سیاہ فام شخص نے مزید بتایا کہ انھیں بات کا اندازہ نہیں تھا کہ کوئی اس واقعے کی فلم بنا رہا تھا تاہم انھوں نے کسی کو بھی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔

سلیمان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو اس بارے میں کیا بتاتے کہ ان کے والد کو ٹرین میں سوار ہونے سے اس لیے روک دیا گیا کیونکہ وہ سیاہ فام ہیں؟

چیلسی فٹ بال کلب کے مداح نے کہا کہ اس واقعے کے عام ہونے کے بعد ان میں اعتماد آ گیا ہے کہ وہ پولیس سے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انگلش مداحوں کو تلاش کر کے سزا دینے کی ضرورت ہے اور انھیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔

انسانی حقوق سے متعلق کونسل آف یورپ کمشنر نیلس میوزنیک نے اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس کو نسل پرستی روکنے کے لیے ’فوری‘ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Clicsouris
Image caption لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پیرس کے میٹرو سٹیشن پر پیش آنے والے واقعہ کا ’بہت سنجیدگی‘ سے جائزہ لے رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس میں عدم برداشت، نسل پرستی اور نفرت پر مبنی تقریر کو روکنے کے لیے کی جانے والی قانون سازی کے باوجود فرانس میں ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ادھر لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پیرس کے میٹرو سٹیشن پر پیش آنے والے واقعہ کا ’بہت سنجیدگی‘ سے جائزہ لے رہی ہے۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث افراد کو شناخت کرنے میں فرانسیسی حکام کی مدد کرے گی۔

دوسری جانب چیلسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے پر پولیس کی مدد کرے گا۔

ترجمان کے مطابق مداحوں کے اس فعل کے لیے ’فٹ بال اور معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ منگل کو فرانس میں ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک گروہ چیلسی فٹ بال کلب کے مداح ایک سیاہ فام شخص کو ٹرین میں سوار ہونے سے روک رہا تھا۔

موبائل فون پر بنائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک سیاہ فام شخص مسلسل پر ہجوم میٹرو ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے بار بار باہر دھکیل دیا جاتا تھا۔

لوگوں کے ایک گروہ کو یہ گاتے ہوئے سنا جا سکتا تھا ’ہم نسل پرست ہیں، ہم نسل پرست ہیں اور ہمیں یہی طریقہ پسند ہے۔‘

یہ ویڈیو فوٹیج برطانوی اخبارگارڈین کو حاصل ہوئی جس کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ منگل کو شہر میں ہونے والے چیمپیئنز لیگ کے میچ سے قبل پیش آیا۔

اسی بارے میں