میچ ہارنے والی ٹیم کے لیے حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت کے خلاف یونس خان کو اوپنر اور عمراکمل کو وکٹ کیپر کے طور پر کھلانے کے تجربے بری طرح ناکام رہے

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں ہفتے کے روز ورلڈ کپ میں اپنے دوسرے میچ میں مدمقابل ہیں۔

دونوں ٹیموں کو ایک جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ پاکستانی ٹیم بھارت سے ہارچکی ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ نہ رکھنے والی آئرلینڈ کی ٹیم کے ہاتھوں ہزیمت سے دوچار ہوئی ہے۔

اس طرح دونوں ٹیموں کو اس میچ میں جیت کی اشد ضرورت ہے تاکہ کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی کے ساتھ ساتھ کوارٹرفائنل تک رسائی کو زد نہ پہنچے۔

یہ میچ ہارنے والی ٹیم کے لیے حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں کیونکہ اس میچ کے بعد پاکستان اور ویسٹ انڈیز دونوں کو جنوبی افریقہ جیسے بڑے خطرے کا سامنا کرنا ہے۔ویسٹ انڈیز کا بھارت سے میچ بھی باقی ہے اور پاکستان کو آئرلینڈ سے مقابلہ کرنا ہے۔

پاکستانی ٹیم ابھی تک اس کامبی نیشن کے بغیر کھیل رہی ہے جو کسی بھی ٹیم کی اچھی کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

بھارت کے خلاف یونس خان کو اوپنر اور عمراکمل کو وکٹ کیپر کے طور پر کھلانے کے تجربے بری طرح ناکام رہے۔

یونس خان شاید ویسٹ انڈیز کے خلاف اننگز کا آغاز نہ کریں لیکن عمر اکمل کا وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھیلنا لازمی دکھائی دیتا ہے۔ ناصر جمشید کو یاسر شاہ کی جگہ ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئرلینڈ کے خلاف پہلے میچ میں بھی اس کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ ناکام رہی جسے سمنز اور ڈیرن سیمی نے سنبھالا لیکن بولرز تین سو چار کے سکور کا دفاع نہ کرسکے

ویسٹ انڈیز کی ٹیم ان دنوں حریف ٹیموں سے زیادہ اندرونی مسائل کے سبب اپنے آپ سے نبردآزما ہے جس کے نتیجے میں متعدد کھلاڑی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے۔

آئرلینڈ کے خلاف پہلے میچ میں بھی اس کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ ناکام رہی جسے سمنز اور ڈیرن سیمی نے سنبھالا لیکن بولرز تین سو چار کے سکور کا دفاع نہ کرسکے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ورلڈ کپ میں نو میچز کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے تین پاکستان جیتا ہے چھ میں ویسٹ انڈیز کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

دونوں کے درمیان ورلڈ کپ میں آخری مقابلہ 2011 میں ڈھاکہ میں ہوا تھا۔ اس کوارٹرفائنل میچ میں پاکستان نے دس وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں