نسل پرستانہ سلوک پر چیلسی کے مداح کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY IMAGES
Image caption آئر لینڈ کے باشندے 50 سالہ رچرڈ بارکلے کو پولیس نے شناخت کیا تھا

چیلسی فٹ بال کل کے ایک مداح اور سابق پولیس اہلکار نے پیریس کی میٹرو میں ایک سیاہ فام شخص کے ساتھ نسل پرستانہ سلوک میں اپنے مبینہ کردار پر معافی مانگی ہے تاہم انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ ایک نسل پرست ہے۔

آئر لینڈ کے باشندے 50 سالہ رچرڈ بارکلے کو پولیس نے شناخت کیا تھا۔

ایک بیان میں انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ بھی نسل پرستی سے متعلق نعرے بازی میں شامل تھے اور ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس وقعے سے متعلق تفصیل پولیس کو بتانا چاہتے ہیں۔

چیلسی فٹ بال کلب نے ایک سیاہ فام آدمی کو ٹرین سے باہر دھکیلے جانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پانچ مداحوں پر پابندی عائد کی تھی۔

میٹروپولیٹین پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والے چیلسی کے مداحوں تین افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔

بارکلے بھی ان افراد میں سے ایک ہیں جن کے پاس چیلسی کے اس سیزن کے ٹکٹ ہیں۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سیاہ فام شخص کے ساتھ بدسلوکی کے واقعے میں وہ بھی ملوث تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس اس بارے میں معلومات ہوں تو وہ اس سے رابطہ کرے

تاہم سابق پولیس اہلکار نے نسل پرستانہ گیت گانے سے انکار کیا۔ ان کا موقف ہے کہ میچ دیکھنے کے لیے تنہا گئے تھے اور وہ اس ویڈیو میں موجود کسی بھی شخص کو نہیں جانتے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ چلیسی کے مداحوں کے کسی بھی گروہ کا فرقے کا حصہ نہیں ہیں۔

بارکلے اس وقت انسانی حقوق کے ادارے ’دی ورلڈ ہیومن رائٹس فورم‘ کے ساتھ وابستہ ہیں اور مشکلات کا شکار افراد کی مدد کرتے ہیں۔

ان کے وکیل نے میٹ پولیس سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ وہ تفتیش میں ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔

اس ے قبل لندن کی پولیس سینٹ پینکرس سٹیشن پر پیرس میں چیمپیئنز لیگ کے میچ سے واپس آنے والے لوگوں کی جانب سے نسل پرست نعرے لگانے کی تفتیش کر رہی ہے جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ چیلسی کے مداح ہیں۔

پیرس میں منگل کو چیلسی اور پیرس سینٹ جرمین کلب کا مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا تھا۔ برطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس نے عوام سے اپیل کی تھی کہ اگر کسی شخص کے پاس اس بارے میں معلومات ہوں تو وہ رابطہ کرے۔

چیلسی فٹبال کلب نے پیرس میں ہونے والے واقعے کے بعد اپنے پانچ حامیوں پر سٹیمفرڈ برج میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

چیلسی کے مینیجر ہوزے مورینہو نے کہا ہے کہ وہ ان مبینہ نسل پرست نعروں پر ’شرمندہ‘ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایسے رویے کی ’کھلے عام مذمت‘ کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے: پولیس

برطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس کی سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ ایسے رویے کی ’کھلے عام مذمت‘ کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور پولیس اس مسئلے کے حوالے سے دیگر فٹبال کلبوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو فرانس میں ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں چیلسی فٹ بال کلب کے حامی ایک سیاہ فام شخص کو دھکے دے کر ٹرین سے نکال رہے تھے۔ موبائل فون پر بنائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک سیاہ فام شخص مسلسل پر ہجوم میٹرو ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے بار بار باہر دھکیل دیا جاتا تھا۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ٹرین میں سوار ہونے سے روکنے والے 33 سالہ سیاہ فام شخص سلیمان نے فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ انھیں ٹرین میں سوار ہونے سے روکنے والے انگلش مداحوں کو گرفتار کیا جائے۔ بی بی سی ریڈیو فائیو سے بات کرتے ہوئے سلیمان نے کہا کہ نسل پرست نعروں سے انھیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔

اسی بارے میں