کرکٹ ٹیم کی خراب کارکردگی کی گونج ایوانوں میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جاری عالمی کرکٹ کپ میں ناقص کارکردگی کی گونج اب منتحب ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔

منتخب نمائندوں نے کہا ہے کہ اگر شدت پسندی کو روکنے کے لیے دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جا سکتے ہیں تو پھر ان افراد کے خلاف بھی مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جائیں جو قومی کرکٹ ٹیم کی اس ناقص کارکردگی کے ذمہ دار ہیں۔

منگل کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کامل علی آغا کی سربراہی میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کی اطلاعات و نشریات سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کے ایجنڈے میں سرکاری ٹیلی ویژن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کرکٹ ٹیم کے میچ دکھانے کے حقوق سے متعلق بولی میں حصہ لینا شامل تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر عبدالقیوم سومرو نے کہا کہ ایسی کرکٹ ٹیم کے میچ دکھانے کا کیا فائدہ جس نے کروڑوں افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر سیاست دانوں کے خلاف مقدمات چل سکتے ہیں تو ان کرکٹرز کے خلاف مقدمات کیوں درج نہیں کیے جا سکتے؟

سینیٹر عبدالقیوم سومرو نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان ترتیب دیا جا سکتا ہے تو پھر ’کرکٹ گردی‘ کا بھی پلان کیوں نہیں بن سکتا؟

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ایسے افراد کو کرکٹ بورڈ میں ذمہ داریاں دی گئی ہیں جن پر سٹے بازی کا الزام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ ٹیم کی زبوں حالی پر حکومت تمام جماعتوں کا اجلاس طلب کرے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ معین خان کا نیوزی لینڈ کے جوا خانہ جانا لوگوں کے شکوک و شہبات کو تقویت دیتا ہے۔

کمیٹی نے حکومت سے کرکٹ کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے اور بورڈ سے ایسے افراد جن کے خلاف عدالتی فیصلے موجود ہیں اور وہ سٹہ بازی میں بھی شامل رہے ہیں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

کمیٹی نے سرکاری ٹیلی ویژن کے حکام سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کےمیچ دکھانے کے حقوق حاصل کرنے کے لیے پوری تیاری کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ 27 فروری کو آئندہ پانچ سال تک کرکٹ ٹیم کے میچ دکھانے کے حقوق کی بولی دے رہا ہے۔

سینیٹر کامل علی آغا کے مطابق گذشتہ بولی میں پاکستان ٹیلی ویژن کو بولی میں حصہ لینے نہیں دیا گیا اور ایک نجی ٹی وی کو کرکٹ میچ دیکھانے کے حقوق دیےگئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بھی کرکٹ بورڈ میچ دیکھانے کے حقوق کسی نجی ٹی وی چینل کو دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اسی بارے میں