پرانے پرمٹ پر ہی ایورسٹ جانے دیں، کوہ پیماؤں کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیپال میں انفرادی کوہ پیمائی کے مقابلے ٹیم کوہ پیمائی کی فیس کم ہے

دنیا کے سب سے بلند پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے خواہشمند سینکڑوں کوہ پیما اس انتظار میں ہیں کہ آیا انھیں اس سال پرانے پرمٹ پر پھر سے چوٹی سر کرنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔

یہ وہ کوہ پیما ہیں جنھیں سال پرمٹ ہونے کے باوجود ایورسٹ کی مہم اس لیے ترک کرنی پڑی تھی۔

گذشتہ سال برفانی طوفان میں 16 ساتھیوں کے مرنے پر پہاڑ پر کوہ پیماؤں کے ہمراہ جانے والے شرپاؤں نے ہڑتال کر دی تھی۔ اسی طوفان کی وجہ سے کوہ پیمائی کی تمام مہمات روک دی گئی تھیں۔

نامہ نگار نوین سنگھ کھڑکا کے مطابق اب ان کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے نئے سیزن کے آغاز میں چند ہفتے ہی رہ گئے ہیں اور وہ نیپالی حکومت کی جانب سے فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے وہ شش و پنج کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکام نے گذشتہ سال شرپاؤں کی ہڑتال کے بعد کہا تھا کہ تقریباً 300 کوہ پیماؤں کو دیے گیے پرمٹ پانچ سال تک استعمال ہو سکیں گے۔

Image caption گذشتہ سال طوفان کی وجہ سے ایورسٹ کی مہم کو بند کر دیا گیا تھا

حکام کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ سال کے پرمٹ کی منظوری دینے کو تیار ہیں لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ کوہ پیما وہی ٹیم لے کر آئیں۔

آپریٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ ٹیم میں شامل افراد کا تعلق مختلف ممالک سے تھا اور انھیں پھر سے یکجا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے اپنے منصوبے، ترجیحات اور پروگرام ہیں۔

نیپال کے مقامی آپریٹرز کی تنظیم کے ساتھ ساتھ ایک درجن سے زیادہ بین الاقوامی آپریٹرز نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ مختلف کوہ پیما ٹیموں کے 31 کوہ پیماؤں کو انفرادی طور پر یا کسی ٹیم کے ساتھ اجازت دی جائے۔

ہمیالین ایکسپیریئنس کے رسل برائس کا کہنا ہے کہ ’مہم کے آغاز میں اب صرف چھ ہفتے رہ گئے ہیں اور کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ کوہ پیما مہم کے آپریٹر کی حیثیت سے ہم لوگ بالکل اندھیرے میں ہیں اور ایک سال میں کچھ نہیں ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیپال میں شیرپا روایتی طور پر کوہ پیمائی میں شرکت کرتے ہیں اور بیرونی کوہ پیماؤں کو سہولت فراہم کرتے ہیں

ایک دوسرے آپریٹر گورڈن جیناؤ نے کہا کہ ’عدم فیصلے کا مطلب ہے کہ اس سال موسم بہار میں گذشتہ سال کے پرمٹ کا استعمال نہیں ہو سکے گا اور یہ سیزن آئندہ ماہ شروع ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس وقت حالت یہ ہے کہ جو کوہ پیما پرمٹ کے بارے میں فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں انھیں اس کی تیاری میں تاخیر ہو جائے گی۔‘

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پیچیدہ ہے اور وہ تحفظ اور دوسری وجوہات کے سبب اجنبی افراد پر مبنی ٹیم کی مہم کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتے۔

وزیر سیاحت دیپک چندر امتیا نے بی بی سی کو بتایا ’پرمٹ کو قابل منتقل بنانے کے لیے ضابطوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور یہ ایک طویل مسئلہ ہے۔۔۔ میں نے اسے وزارت قانون کے پاس بھیجا ہے اور جلد ہی اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ سال شیرپا نے اپنے 16 ساتھیوں کی موت پر احتجاج کیا تھا جس کے نتیجے میں کوہ پیمائی بند کر دی گئی تھی

بہر حال حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ ضابطے میں یہ پرمٹ قابل منتقلی نہیں ہیں جبکہ آپریٹروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جب انھوں وزارت سیاحت سے رجوع کیا تھا تو انھی سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نیپال میں انفرادی کوہ پیمائی کے مقابلے ٹیم کوہ پیمائی کی فیس کم ہے لیکن جنوری سے حکومت نے انفرادی پرمٹ فیس میں کمی کرتے ہوئے اسے 25 ہزار ڈالر سے کم کر کے 11 ہزار ڈالر کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ سال تک سات کوہ پیماؤں کے سات ارکان پر مشتمل گروپ کے لیے 70 ہزار ڈالر دینے ہوتے تھے اور اسی لیے ٹیم میں جانا زیادہ سستا تھا۔

بہرحال حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال ابھی کوئی نیا پرمٹ جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم گذشتہ سال کا مسئلہ ابھی بھی حل طلب ہے۔

اسی بارے میں