’معین نے ایسا کچھ نہیں کیا جس پر انضباطی کارروائی کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پی سی بی کی جانب سے معین خان کے جوا خانے جانے کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے: شہریار خان

پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ ٹیم کے چیف سلیکٹر معین خان نے کرائسٹ چرچ کے جوا خانے میں کھانا کھانے کا معاملہ ان کی معافی مانگنے کے بعد ختم ہوگیا ہے۔

انھوں نے یہ بات لاہور میں معین خان سے ملاقات کے بعد کہی جس میں معین نے جوا خانے جانے کے حوالے سے وضاحت کی۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چئیرمین شہریار خان کا کہنا تھا کہ معین خان نے وضاحت پیش کردی ہے، وہ قوم سے پہلے بھی معافی مانگ چکے ہیں اور اب یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معین خان نے وہی باتیں دوہرائیں ہیں جو وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ کسینو جوا کھیلنے نہیں گئے تھے بلکہ اپنی بیگم اور چند دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے گئے تھے اور کھانا کھانے کے بعد ہوٹل واپس آ گئے تھے۔

پی سی بی کے چئیرمین نے بتایا کہ بورڈ نے اس معاملے کی خود سے بھی تفتیش کی ہے جس میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ معین خان نے جوا نہیں کھیلا اور پی سی بی کی جانب سے جوئے خانے جانے کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے۔

’انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس پر ان کے خلاف انضباطی کاروائی کی جائے۔‘

تاہم شہریار خان نے کہا کہ اس موقعے پر معین کا کسینو جانا نامناسب تھا اور اس بات کو معین خان نے خود بھی تسلیم کیا ہے اور وہ اس پر کرکٹ بورڈ اور پاکستانی عوام سے معافی مانگ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ کرکٹ بورڈ کے کسی آفیشل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دورے کے درمیان میں وطن واپس بلایا گیا ہو

ایک سوال کے جواب میں شہریارخان نے بتایا کہ معین خان چیف سلیکٹر کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے تاہم اب وہ آسٹریلیا واپس نہیں جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے معین خان کو کرائسٹ چرچ کے جوا خانے میں جانے کی پاداش میں وطن واپس بلا لیا تھا اور پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کرکٹ بورڈ کے کسی آفیشل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دورے کے درمیان میں وطن واپس بلایا گیا ہے۔

شہریارخان نے بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان میں بحالی کے بارے میں بتایا کہ اس کے لیے کرکٹ بورڈ اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن بڑی ٹیموں کے بجائے پہلے ایسوسی ایٹ ٹیموں کو پاکستان بلایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ نیدرلینڈز، نمیبیا اور آئرلینڈ سمیت کئی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے کے لیے دلچسپی رکھتی ہیں۔

پی سی پی کے چئیرمین کا کہنا تھا کہ دسمبر میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کے حوالے سے وہ اپنے دورہ بھارت کے دوران وہاں کے کرکٹ حکام سے بات چیت کریں گے۔

اسی بارے میں