عالمی کپ مقابلوں میں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی پہلی جیت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی جانب سے محمد عرفان، راحت علی اور وہاب ریاض نے تین تین وکٹیں حاصل کیں

نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں کھیلے جانے والے آئی سی سی ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 29 رنز سے شکست دے دی۔

پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف 222 رنز بنائے تاہم ڈک ورتھ لوئس کے تحت جنوبی افریقہ کو 232 رنز بنانے تھے۔

جنوبی افریقہ جواب میں 202 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

تفصیلی سکور کارڈ

جنوبی افریقہ کی جانب سے واحد بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز ہی تھے جنھوں نے پاکستان کو پریشان کیا۔

ڈی ویلییرز نے بھارت کے سچن ٹنڈولکر کا ورلڈ کپ میچوں میں 1000 رنز کا ریکارڈ صرف بیس میچوں میں برابر کردیا ہے۔

ورلڈ کپ میں پہلا میچ کھیلنے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد کو ان کے عمدہ 49 گیندوں میں 49 رنز اور چھ کیچوں پر مین آف دی میچ دیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے محمد عرفان، راحت علی اور وہاب ریاض نے تین تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ سہیل خان نے ایک مگر ڈی ویلیئرز کی اہم وکٹ حاصل کی۔

محمد عرفان نے دوسری گیند ہی پر ڈی کوک کو آؤٹ کیا۔ ڈی کوک اس ورلڈ کپ میں اب تک اچھی بیٹنگ نہیں کر پائے ہیں۔

پاکستان کو دوسری کامیابی 67 کے مجموعی سکور پر ملی جب راحت علی نے ڈو پلیسی کو 27 کے انفرادی سکور پر آؤٹ کیا۔

ہاشم آملہ نے جارحانہ بیٹنگ کی اور 26 گیندوں میں نو چوکوں کی مدد سے 38 رنز بنائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنوبی افریقہ کی جانب سے سٹین نے دس اوورز میں 30 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں

پاکستان کو جلد ہی ایک اور وکٹ ملی جب وہاب ریاض نے روسو کو صرف چھ رنز پر آؤٹ کیا۔

راحت علی نے ملر کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کیا۔

جنوبی افریقہ کو ایک اور نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب محمد عرفان کی گیند پر ڈومینی کیچ آؤٹ ہوئے۔ ان کا کیچ وہاب ریاض نے پکڑا۔

محمد عرفان نے تیسری وکٹ اس وقت حاصل کی جب سٹین 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

ایبٹ جو پراعتماد بیٹنگ کر رہے تھے کو راحت علی نے 12 رنز پر آؤٹ کیا۔ یونس خان نے سلِپ میں شاندار کیچ پکڑا۔

ڈی ویلیئرز نے سات چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 58 گیندوں میں 77 رنز بنائے۔ ان کو سہیل خان نے آؤٹ کیا۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

پاکستان 47 ویں اوور میں 222 رنز بنا کر پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔

پہلے 37ویں اوور اور پھر 41 ویں اوور میں میں بارش کے باعث میچ روکا گیا۔ جس کے باعث میچ 47 اوورز کا کر دیا گیا۔

شاہد آفریدی نے ایک روزہ میچوں میں اپنے آٹھ ہزار رنز مکمل کر لیے۔

مصباح الحق نے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں اپنے 5000 روز مکمل کر لیے ہیں۔ مصباح نے 73 گیندوں میں چار چوکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کر لی ہے۔

جنوبی افریقہ کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب فاسٹ بولر ڈیل سٹین نے احمد شہزاد کو آؤٹ کر دیا۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور 30 رنز تھا جو موجودہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی بہترین اوپننگ پارٹنرشپ تھے۔ اس سے پہلے پاکستان کی سب سے بہترین اوپننگ پارٹنرشپ 11 رنز کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح الحق نے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں اپنے 5000 روز مکمل کیے

جنوبی افریقہ نے ابتدائی اوروں میں کامیابی نہ ملنے دو اطراف سے فاسٹ بولروں کو ہٹا کر اپنے دونوں سپنروں، عمران طاہر اور جے پی ڈومنی کو بولنگ کے لیے بلایا ہے۔

پاکستانی بیٹسمینوں سپنروں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کھل کر شاٹس کھیلے۔ سرفراز احمد نے جے پی ڈومنی کے ایک اوور میں تین چھکے لگائے۔ سرفراز احمد ایک تیز رن لیتے ہوئے رنز آؤٹ ہو گئے۔

پاکستان نے اپنی تیسری وکٹ 27ویں اوور میں اس وقت گنوائی جب یونس خان 37 رنز بنا کر آوٹ ہوگئے۔

صہیب اچھا نہ کھیل سکے اور 16 گیندوں میں آٹھ رنز سکور کر کے ایبٹ کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

عمر اکمل پاور پلے کے دوران 20 گیندوں میں صرف 13 رنز بنا کر مورکل کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔

شاہد آفریدی نے 15 گیندوں میں 22 رنز سکور کیے اور اس کے ساتھ انھوں نے ایک روزہ میچوں میں اپنے آٹھ ہزار رنز بھی مکمل کیے۔

وہاب ریاض پہلی گیند ہی پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ ان کو عمران طاہر نے آؤٹ کیا۔

مصباح الحق نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور 85 گیندوں میں 56 رنز سکور کیے۔ ان کو سٹین نے آؤٹ کیا۔

راحت علی صرف ایک رن بنا کر سٹین کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سہیل خان تین رنز بنا کر مورکل کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے سٹین نے تین جبکہ ایبٹ اور مورکل نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں۔ ناصر جمشید کو ڈراپ کر کے وکٹ کیپر سرفراز احمد کو بطور اوپنر کھیلانے کا فیصلہ کیاگیا۔ اس کے علاوہ حارث سہیل ان فٹ ہونے کی وجہ یونس خان کو ٹیم میں شامل کیاگیا ہے۔

جنوبی افریقہ نے ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے اور بہاردین کی جے پی ڈومنی کو ٹیم میں دوبارہ جگہ دی ہے۔

اسی بارے میں