بیٹسمینوں کی بگڑی بولرز نے بنادی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وکٹ کیپر سرفراز احمد اس جیت کے ہیرو تھے جنھوں نے49 رنز کی جارحانہ بیٹنگ کے بعداننگز میں چھ کیچز کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کیا

بولرز کی شاندار بولنگ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ کے ایک اہم میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 29 رنز کی انتہائی اہم کامیابی سے ہمکنار کردیا۔

عالمی کپ کے مقابلوں میں یہ پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی جیت بھی ہے۔

بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی نے پاکستانی ٹیم کو صرف 222 رنز بنانے کا موقع دیا لیکن پیس بیٹری ایسی چارج ہوئی کہ اس نے جنوبی افریقہ کو تمام وقت بیک فٹ پر ہی رکھا اور ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت دیے گئے 232 رنز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو 202 رنز پر آؤٹ کردیا۔

وکٹ کیپر سرفراز احمد اس جیت کے ہیرو تھے جنھوں نے49 رنز کی جارحانہ بیٹنگ کے بعداننگز میں چھ کیچز کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کردیا۔

محمد عرفان ۔ راحت علی اور وہاب ریاض نے تین تین وکٹوں کی مساوی تقسیم کےساتھ اپنے کپتان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی بولروں نے عمدہ کارکردگي کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی زبردست بیٹنگ لائن اپ کو ناکام بنا دیا

پاکستانی ٹیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اے بی ڈی ویلیئرز تھے جو اپنی عمدہ بیٹنگ سے جنوبی افریقہ کو جیت کے قریب لے آئے تھے لیکن 77 رنز کے انفرادی سکور پر سہیل خان کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ کے بعد جنوبی افریقہ کی آخری امید بھی دم توڑگئی۔

پاکستانی بیٹسمینوں کوآؤٹ کرنے کے لیے کسی منصوبہ بندی یا کوئی جال بچھانے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ خود ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی مار دیتے ہیں ۔

سرفراز احمد نے جس طرح اننگز کی ابتدا کی تھی اس سے امید بندھی تھی کہ آج رنز کی برسات ہوگی لیکن شاٹس کے غلط انتخاب نے بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا ۔

پاکستانی ٹیم دو تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری ۔ ایڑی کی تکلیف میں مبتلا حارث سہیل نے یونس خان کے لیے جگہ خالی کی اور آؤٹ آف فارم ناصرجمشید کوباہر بٹھاکر ٹورنگ سلیکشن کمیٹی نے بالآخر سرفراز احمد کو موقع دے ہی دیا جن کے بارے میں چند روز قبل ہی کوچ اس دعوے کے ساتھ عدم اعتماد ظاہر کرچکے تھے کہ چونکہ ان کی تکنیک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز کے لحاظ سے درست نہیں لہذا ان کا کریئر داؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی افریقہ کی جانب سے اے بی ڈی ویلیئرز نے 77 رنز بنائے

سرفراز احمد نے جارحانہ انداز میں جنوبی افریقی بولنگ پر حاوی ہوکر ٹیم کو ایک بڑے سکور تک پہنچنے کا حوصلہ دیا ساتھ ہی انھوں نے اپنے کوچ اور کپتان کو بھی یہ باور کرادیا کہ انھیں باہر بٹھاکر وہ بہت بڑی غلطی کررہے تھے۔

سرفراز احمد نے پانچ چوکوں اور جے پی ڈومینی کے ایک ہی اوور میں لگائے گئے تین چھکوں کی مدد سے49 رنز بنائے لیکن دوسرا رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوکر انھوں نے اپنی وکٹ خود گنوائی۔

احمد شہزاد ڈیل سٹین کے غیرمعمولی کیچ کی بھینٹ چڑھے اور اس کے بعد ہر بیٹسمین کریز پر آتا گیا اور اپنی وکٹ گنواکر جاتا رہا۔

یونس خان نے کور پر روسو کو کیچ کی پریکٹس کرائی۔

صہیب مقصود نے بھی بیک ورڈ پوائنٹ پر روسو کو آسان کیچ تھمایا۔ عمراکمل مڈ وکٹ پر اے بی ڈی ویلیئرز کے ہاتھوں دبوچے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد عرفان، راحت علی اور وہاب ریاض نے تین تین وکٹ لیے

عمراکمل اور صہیب مقصود کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس ورلڈ کپ میں انھوں نے کچھ بھی نہ کیا تب بھی ان کی جگہ لینے والا کوئی نہیں۔

شاہد آفریدی نے ڈیل سٹین کو چھکا مارنے کے بعد اگلی ہی گیند پر اپنی وکٹ انھیں دے دی۔

مصباح الحق نے اس عالمی کپ کے پانچویں میچ میں اپنی چوتھی نصف سنچری سکور کرنے کے ساتھ ساتھ ون ڈے انٹرنیشنل میں پانچ ہزار رنز بھی مکمل کرلیے لیکن آخری اوورز میں وہ وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور ڈیل سٹین کی اننگز میں تیسری وکٹ بن گئے۔

اسی بارے میں