’ڈی ویلیئرز میرے جال میں آ پھنسے‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTRES
Image caption ’کوچ وقار یونس نے اس میچ کے لیے جو منصوبہ بندی کی تھی ہم تمام بولروں نے اسی کے مطابق بولنگ کی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے‘

فاسٹ بولر سہیل خان کے لیے اس سے زیادہ خوشی کا لمحہ کوئی اور ہو نہیں سکتا تھا۔

سہیل خان سے جب میں اس جیت اور قیمتی وکٹ کے بارے میں بات کر رہا تھا تو میں ان کے لفظوں کے بجائے ان کے چہرے پر موجود جوش و خروش محسوس کررہا تھا جس سے ان کے اندر کی خوشی بھی خوب ظاہر ہو رہی تھی۔

’کوچ وقار یونس نے اس میچ کے لیے جو منصوبہ بندی کی تھی ہم تمام بولروں نے اسی کے مطابق بولنگ کی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔‘

اے بی ڈی ویلیئرز کی وکٹ کے بارے میں سہیل خان کہتے ہیں کہ یہ وکٹ ان کے بچھائے ہوئے جال میں آ پھنسی۔

’میں جب اے بی ڈی ویلیئرز کو بولنگ کررہا تھا تو میں دیکھ رہا تھا کہ میرے کریز پر آنے سے پہلے ہی وہ آگے آ کر کھیل رہے تھے ۔۔۔ میں نے ایک گیند آگے کی، دوسری بھی آگے کی اور تیسری بھی اسی طرح کی تاکہ وہ یہ سمجھیں کہ میں اسی لائن پر بولنگ کر رہا ہوں۔ آخرکار میں نے ایک گیند پیچھے کر دی جو ان کی سمجھ میں نہیں آئی۔‘

سہیل خان اس وکٹ کو اپنی سب سے قیمتی وکٹ قرار دیتے ہیں۔

’ اے بی ڈی ویلیئرز عصر حاضر کے بہت بڑے بیٹسمین ہیں۔ آج کل کی کرکٹ میں ان کا بڑا نام ہے۔ انھیں آؤٹ کرنا کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔‘

سہیل خان جنوبی افریقہ کے خلاف جیت کے باوجود بھارت کے خلاف پانچ وکٹوں کو اپنے کریئر کی شاندار کارکردگی سمجھتے ہیں۔

’بھارت کے خلاف میچ میرے لیے سب سے زیادہ دباؤ والا میچ تھا۔ بھارت جیسی بڑی بیٹنگ لائن کے خلاف میں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور اتنے بڑے ہجوم کے سامنے کھیلنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ میں کبھی بھی اتنے بڑے ہجوم کے سامنے نہیں کھیلا تھا۔ اس کارکردگی سے مجھ میں بے پناہ اعتماد آیا تھا اور اگلے میچوں میں میں نے کھل کر بولنگ کی۔‘

جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں جس گیند سے اے بی ڈی ویلیئرز کو آؤٹ کیا وہ گیند کیا آپ کے حصے میں آئی؟

’نہیں۔ تین بولروں نے تین تین وکٹیں حاصل کیں لہٰذا وہ گیند مجھے نہیں مل سکی لیکن جس گیند سے میں نے بھارت کی پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں وہ میرے پاس ہے۔‘

سہیل خان سے آخری سوال یہ تھا کہ بھارت کے خلاف عمدہ بولنگ کے بعد اگلے ہی میچ میں ویسٹ انڈیز کےخلاف موثر ثابت نہ ہو سکے، اس کی کوئی خاص وجہ تھی؟

’کرکٹ میں ہر دن اچھا نہیں ہوتا۔ اس پر برا نہیں منانا چاہیے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں مجھ سے کچھ غلطیاں ہوئیں جس کے بعد میں نے وقار یونس اور مشتاق احمد سے بات کی ان دونوں نے میری رہنمائی کی جس کا مجھے اگلے میچوں میں فائدہ ہوا۔‘

اسی بارے میں