’کیا سچ میں عامر کھیل رہا ہے؟‘

Image caption میدان میں موجود دوسرے کھلاڑیوں سے شاید ہی کسی صحافی نے بات کرنے کی کوشش کی ہوگی

پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عامر گذشتہ پانچ سال آئی سی سی کی جانب سے سپاٹ فکسنگ کے الزام میں پابندی کا شکار رہے۔

پھر رواں برس جنوری میں یہ خبر آئی کہ محمد عامر ڈومیسٹک کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔

محمد عامر نے پابندی ختم ہونے کے بعد جمعے کو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں اپنا پہلا ڈومیسٹک میچ کھیل کر کرکٹ کی دنیا میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا ہے۔

راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم جاتے ہوئے میں محمد عامر کی پانچ سال قبل والی فارم اور کارکردگی کو یاد کر رہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ آج جب محمد عامر میدان میں اتریں گے تو کیا اسی طرح بولنگ کر پائیں گے جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔

تمام ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے تالیوں کی گونج میں محمد عامر نے طویل عرصے کے بعد میدان میں قدم رکھا اور ان کی ٹیم کی جانب سے پہلے بولنگ کرنے کے فیصلے کی خوب لاج رکھی۔

وہی تیز اور گھومتی گیندیں، وہی لائن و لینتھ اور اسی جارحانہ انداز میں بولنگ کرواتے عامر کو دیکھ کر ماضی کی یاد تازہ ہوگئی۔ کچھ خامیاں تھیں لیکن ظاہر ہے ایک طویل عرصے بعد ایکشن میں نظر آئے تھے۔

مقامی میڈیا کے اتنے کیمرا مین شاید ہی کسی ڈومیسٹک میچ کی کوریج کرنے گئے ہوں گے جتنے یہاں صرف اور صرف محمد عامر کے لیے آئے تھے۔

میدان میں محمد عامر جہاں جاتے تمام کیمرا مین ان کے پیچھے پیچھے وہاں پہنچ جاتے۔ کچھ ان کو بولنگ کرواتے ہوئے انداز میں فلم بند کرنا چاہتے تھے تو کچھ ان سے بات کرنے کے لیے میدان سے باہر بلانا چاہتے تھے۔

میں نے بھی کوشش کی لیکن عامر نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ’بھائی جرمانہ کرواؤ گے کیا؟ کھانے کے وقفے کے دوران بات کروں گا۔‘

سٹیڈیم کے مین گیٹ سے کچھ لوگوں کو حیران اور جلد بازی میں داخل ہوتے دیکھا جو یہ سوال کر رہے تھے کہ کیا سچ میں عامر کھیل رہا ہے؟

وہیں ساتھ بیٹھے دیگر کھلاڑیوں کو یہ کہتے سنا کہ ’یار عامر اب بھی سٹار ہے۔‘

ویسے محمد عامر کا رویہ بھی ایک سٹار جیسا ہی تھا۔ جب جب صحافی ان سے بات کرنے کے لیے ان کے پاس جانے کی کوشش کرتے تو یا وہ اپنی جگہ تبدیل کر لیتے یا پھر بعد میں بات کرنے کا کہہ دیتے۔

میدان میں موجود دوسرے کھلاڑیوں سے شاید ہی کسی صحافی نے بات کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ بس ہر طرف سے عامر عامر کرتے صحافی اور کیمرامین دکھائی دے رہے تھے۔

اسی بارے میں