’بقا کی جنگ ہے، خود پر دباؤ طاری کرنے کا کیا فائدہ؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان پوائنٹس ٹیبل پر پانچ میں سے تین میچ جیت کر تیسرے نمبر پر ہے

پاکستان اور آئرلینڈ کی ٹیمیں ورلڈ کپ میں ایک اہم موڑ پر کھڑی ہیں کیونکہ دونوں کو پتہ ہے کہ اتوار کے روز شکست اس عالمی ایونٹ میں ان کا آخری دن ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی روز ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی متحدہ عرب امارات کا سامنا کرنے والی ہے۔ جیت کی صورت میں ویسٹ انڈیز کے چھ پوائنٹس ہوجائیں گے لہٰذا پاکستان اور آئرلینڈ کی ٹیمیں رن ریٹ کے گورکھ دھندے میں الجھنے کے بجائے سادہ جیت سے کوارٹر فائنل تک رسائی کو یقینی بنانا چاہتی ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو 2007 کے عالمی کپ کی شکست ڈراؤنے خواب کی طرح یاد دلائی جاتی ہے لیکن کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس شکست کو آٹھ سال بیت چکے ہیں ہمیں آج کے بارے میں سوچنا ہے۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ آئرلینڈ بہت خطرناک ٹیم ہے اور اس ورلڈ کپ میں اس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن 2007 کی شکست کو آٹھ سال ہو چکے ہیں لہٰذا ہم پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ہم یہ میچ جیتنا چاہتے ہیں جو ہمارے لیے بہت اہم ہے۔‘

جنوبی افریقہ کے خلاف جیت نے پاکستانی ٹیم کے پست حوصلے پھر سے بلند کر دیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصباح الحق آئرلینڈ کے خلاف میچ سے قبل خود کو کسی دباؤ میں محسوس نہیں کرتے۔

’اب تو ہر میچ جیتنے میں ہی ہماری بقا ہے۔ ٹیم جس مشکل صورت حال سے دوچار تھی ایسے میں زمبابوے کے خلاف جیت نے ہمیں نئی زندگی دی ہے۔ جو بھی پریشر تھا وہ ختم ہوجانا چاہیے تھا۔ آئرلینڈ نہ سہی کوئی دوسری ٹیم بھی ہوتی تو ہمیں تو جیتنا ہی ہے ۔ایسی صورت حال میں خود پر دباؤ طاری کرنے کا کیا فائدہ؟‘

مصباح الحق سابق ٹیسٹ کرکٹروں کے تبصرے اور تجزیے روز سنتے ہیں جن میں انھیں مختلف نوعیت کے مشورے بھی دیے جاتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ عمران خان نے یاسر شاہ کو کھلانے کی بات کی ہے تو مصباح الحق نے اسے خارج از امکان قرار دے دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئرلینڈ نے حالیہ ورلڈ کپ میں اب تک پانچ میچز کھیلے ہیں اور اسے دو میں شکست کا سامنا کرنا پڑا

’عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی تیز بولر فارم میں نہیں ہے تو پھراسے باہر بٹھا دیا جائے لیکن اس وقت ہمارے چاروں تیز بولر بہت اچھی بولنگ کر رہے ہیں اور وکٹیں لے رہے ہیں۔ ایڈیلیڈ کی وکٹ پر ٹرن نہیں ہے جس سے سپنروں کو مدد ملے۔‘

مصباح الحق اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ آئرلینڈ کی ٹیم سپنروں کے خلاف کمزور ہے۔

’جب ہم آئرلینڈ میں کھیلے تھے اس وقت بھی ان کے بیٹسمینوں نے سعید اجمل اور عبدالرحمٰن کو اعتماد سے کھیلا تھا۔ ان کے بائیں ہاتھ کے بیٹسمین آف سپنر کے سامنے اچھا نہ کھیلتے ہوں لیکن عام طور پر آئرش بیٹنگ سپن بولنگ کو اچھا کھیلتی ہے۔‘

مصباح الحق تسلیم کرتے ہیں کہ حارث سہیل کے لیے ٹیم میں جگہ بنانا مشکل فیصلہ ہو گا جو ایڑی کی تکلیف کے سبب جنوبی افریقہ کے خلاف میچ نہیں کھیل سکے تھے۔

’حارث سہیل کی شکل میں ہمیں ایک سپنر بھی ملتا ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا کہ کسے باہر بٹھائیں؟ یونس خان جنوبی افریقہ کے خلاف اچھا کھیلے تھے۔‘

مصباح الحق کے خیال میں اس میچ میں ٹاس کی بڑی اہمیت ہو گی۔

’ آسٹریلیا میں فلڈ لائٹس میں بولنگ کرتے ہوئے بولروں کو زیادہ باؤنس ملتا ہے۔ گیند کی موومنٹ بھی ہوتی ہے۔ آئرلینڈ کی ٹیم اپنی بیٹنگ پر انحصار کرتی ہے اور وہ دوسرے نمبر پر بیٹنگ کو فوقیت دیتے ہیں لیکن ہماری بولنگ کو لائٹس میں فائدہ ہو گا۔‘

اسی بارے میں