کمار سنگاکارا کو سری لنکن ٹیم کے مستقبل پر اعتماد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاکارا رواں عالمی کپ میں اب تک سات اننگز میں 108 کی اوسط سے 541 بنا کر سب سے زیادہ سکور کرنے والے کھلاڑی ہیں

جنوبی افریقہ سے عالمی کپ کے کوارٹر فائنل میں شکست کے بعد سری لنکا کے معروف کرکٹر کمار سنگاکارا نے ایک روزہ عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنی ٹیم کے مستقبل پر اعتماد ہے۔

37 سالہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے سنگاکارا نے سری لنکا کی جانب سے 45 رنز بنائے جو ٹیم کے کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ سکور تھا تاہم ان کی کاوش ٹیم کو جتانے کے لیے ناکافی رہی۔

سری لنکا نو وکٹوں کے نقصان پر 133 رنز بنا کر سڈنی کرکٹ گراونڈ پر کھیلے جانے والا یہ میچ ہار گیا۔

سنگاکارا ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے اور انھوں نے عالمی ورلڈ کپ کے اختتام پر ایک روزہ کرکٹ سے علیحدگی کا اعلان کرنے کا ارادہ پہلے ہی کر رکھا تھا۔

اپنی زندگی کے آخری میچ کھیلنے والے سنگاکارا اور ان کے ساتھی کھلاڑی ماہیلا جے وردنے دونوں کے لیے یہ میچ کوئی جادوئی اختتام ثابت نہ ہو سکا۔

دونوں کھلاڑی سنہ 2007 اور سنہ 2011 کے عالمی کپ میں بھی سری لنکا کی جانب سے کھیلے تھے جن میں سری لنکا فائنل میں پہنچ کر ہار گیا تھا۔ تاہم حالیہ شکست نے ان دونوں کو تیسری بار عالمی کپ کا فائنل کھیلنے سے محروم کر دیا۔

سنگاکارا کہ کہنا ہے کہ: ’میں سمجھتا ہوں کہ ٹیم بہت اچھے ہاتھوں میں ہے۔ اینجیلو میتھیوز اس تمام وقت میں ایک بہت موثر لیڈر رہے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنگاکارا ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے

’میرے خیال میں تلکارتنے دلشن سری لنکا کے لیے کچھ سیزن مزید کھیلیں گے۔ ہمارے پاس لاہیرو تھریمانے (جنہوں نے بدھ کو 41 رنز بنائے تھے) بھی ہیں۔ انھوں نے بہت محنت کی ہے۔ وہ جب بھی کھیلتے ہیں پہلے سے زیاد متاثر کرتے ہیں۔‘

’ اس دورے میں ہماری کچھ اِنجریز بھی ہوئی ہیں تاہم اگر آپ ہمارے موجودہ کھلاڑیوں کو دیکھیں تو ہم مستقبل کے بارے میں فقط مثبت رہ سکتے ہیں۔‘

سنگاکارا نے ایک روزہ عالمی کرکٹ کا آغاز سنہ 2000 میں کیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ: ’اگر میں نوجوان کھلاڑیوں میں سے چند ایک کا موازنہ اپنے ساتھ کروں تو میرے خیال میں ان کی کارکردگی ان کی عمر میں میری کارکردگی سے بہت بہتر ہے اور یہ ایک بہت عمدہ بات ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کے ان کے پاس ابھی بہت کچھ سیکھنے اور سری لنکا کو بہت کچھ دینے کو ہے۔

’ مجھے سری لنکا کے مستقبل کے بارے میں کوئی خوف نہیں ہے‘۔

بدھ کے روز ہونے والی شکست کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ:’شکست کھانا مایوس کن ہے، خاص طور پر کوارٹر فائنل میں لیکن جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کے خلاف جیتنے کے لیے ہمیں بہت اچھی کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ہم خود سے بہت کچھ کی امید رکھتے تھے لیکن ہم آج زیادہ اچھا نہیں کھیلے‘۔

سنگاکارا کا یکے بعد دیگرے ایک روزہ عالمی کرکٹ میں چار سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بدھ کے روز ٹوٹ گیا تاہم وہ رواں عالمی کپ میں اب تک سات اننگز میں 108 کی اوسط سے 541 رنز بنا کر سب سے زیادہ سکور کرنے والے کھلاڑی ہیں۔

ایک روزہ عالمی کرکٹ میں وکٹ کیپر اور بیٹسمین سنگاکارا کی مجموعی کارکردگی بھی شاندار رہی ہے۔

انھوں نے 404 میچوں میں 14,234 رنز بنائے جن میں 41.98 کی اوسط سے 38 سنچریاں بھی شامل ہیں۔

بطور وکٹ کیپر انھوں نے 501 وکٹیں لیں جن میں 402 کیچ اور 99 سٹمپ آئوٹ شامل ہیں۔

۔’کھیل جاری رہتا ہے‘۔

اپنا آخری ایک روزہ میچ ہارنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ:’یہ سب تو اسی طریقے سے چلتا ہے۔‘

’ان لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے میرا وقت بہت اچھا گزرا۔ مایوسی ہمارے کھیل کا حصہ ہے۔ اسے برداشت کر کے ہمیں آگے بڑھتے رہنا ہے۔‘

ساتھی کھلاڑی ماہیلا جے وردنے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سنگاکارا کا کہنا تھا کہ:’میرے خیال میں ماہیلا سری لنکا کے لیے ایک غیر معمولی کھلاڑی رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آج وہ بھی بہت مایوس ہوں گے لیکن کبھی کبھار جب آپ کا کیرئیر اختتام کو پہنچتا ہے تو کچھ تسکین بھی ملتی ہے۔‘

سنگاکارا کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اپنے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ:’اگرچہ میری انگلیاں ایک ٹیپ سے جڑی ہوئی ہیں لیکن میرا جسم کسی دوسرے جذبے سے جڑا ہوا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں ایک یا دو سال تک مزید کھیل سکتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب سہی وقت ہے۔ میں اپنے فیصلے پر بہت خوش ہوں۔ میں نے جب بھی کھیلا بھرپور محنت سے کھیلا۔‘

’لیکن آپ جانتے ہیں کہ کھیل جاری رہتا ہے۔ آپ اس کو تھام کر بیٹھے نہیں رہ سکتے۔ لوگوں کو زیادہ حسّاس نہیں ہونا چاہیے۔‘

’بہت سے بہترین اور بڑے کھلاڑیوں کے جانے پر بھی کھیل جاری رہا ہے اور نئے کھلاڑیوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ میرے معاملے میں بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہو گا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح سے یاد رہنا چاہیں گے تو انھوں نے کہا کہ :’اگر کوئی یہ کہے کہ انہیں میرے ساتھ یا میرے خلاف کھیل کر مزا آیا تو یہ میرے لیے بہت خوشی کی بات ہو گی۔‘

اسی بارے میں