پاکستان اور آسٹریلیا عالمی کپ میں ہم پلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان اور آسٹریلیا عالمی کپ کی تاریخ میں اب تک آٹھ بار مقابلہ کیا جن میں دونوں ٹیموں نے چار چار کامیابیاں حاصل کی ہیں

عالمی کپ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے میچ ہمیشہ دلچسپ اور سخت رہے ہیں ۔

دونوں ٹیمیں اب تک ورلڈ کپ میں آٹھ بار مدِمقابل آئی ہیں اور مقابلہ برابری کا رہا ہے یعنی دونوں نے چار چار میچ جیتے ہیں۔

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں پہلی بار 1975 کے عالمی کپ میں مدمقابل ہوئی تھیں۔ ہیڈنگلے میں کھیلے گئے اس میچ میں آسٹریلیا نے 73 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سات وکٹوں پر 278 رنز بنائے جس میں راس ایڈورڈز کے ناقابل شکست 80 رنز قابل ذکر تھے۔

جواب میں پاکستانی ٹیم ڈینس للی کی پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی کے سبب صرف 205 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی۔ ماجد خان اور آصف اقبال کی نصف سنچریاں بھی ٹیم کے کام نہ آ سکیں۔

1979 کے عالمی کپ میں پاکستان نے ٹرینٹ برج میں آسٹریلیا کو 89 رنز سے شکست دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ میں بھی ماجد خان اور آصف اقبال نے نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔

عالمی کپ میں دونوں ٹیمیں تیسری بار 1987 میں مدمقابل آئیں۔ یہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا ورلڈ کپ کا سیمی فائنل تھا جس میں پاکستان کو 18 رنز سے شکست ہوئی۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ڈیوڈ بون کی نصف سنچری کی بدولت آٹھ وکٹوں پر 267 رنز بنائے۔

اسٹیو وا نے اننگز کے آخری اوور میں سلیم جعفر کی پٹائی کرتے ہوئے 18 رنز بنا ڈالے۔ جواب میں جاوید میانداد نے 70 اور کپتان عمران نے 58 رنز کی اننگز کھیلیں لیکن کریگ میکڈرمٹ کی پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی نے فائنل کھیلنے کے پاکستانی خواب بکھیر دیے۔

1992 کے عالمی کپ میں پاکستان نے 48 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

پاکستانی بولروں نے 220 رنز کے اسکور کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کو پرتھ میں صرف 172 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

عاقب جاوید اور مشتاق احمد نے تین تین وکٹیں حاصل کیں، جب کہ عمران خان اور وسیم اکرم نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

1999 کے عالمی کپ میں دونوں ٹیمیں دو بار مدمقابل آئیں۔ گروپ میچ میں پاکستان نے دلچسپ مقابلے کے بعد وسیم اکرم اور ثقلین مشتاق کی سات وکٹوں کی غیر معمولی کارکردگی کے نتیجے میں دس رنز سے بازی اپنے نام کی۔

دونوں ٹیمیں لارڈز میں کھیلے گئے فائنل میں مدمقابل ہوئیں تو دنیا ایک سخت مقابلے کی منتظر تھی لیکن پاکستانی ٹیم شین وارن کے سحر میں گرفتار ہوگئی جنھوں نے چار وکٹیں حاصل کرکے پاکستانی ٹیم کو صرف 132 رنز پر ڈھیر کر دیا۔

آسٹریلیا نے ایڈم گلکرسٹ کی نصف سنچری کے ذریعے کسی دشواری کے بغیر آٹھ وکٹوں کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کر دی۔

2003 کے عالمی کپ میں اینڈریو سائمنڈز کی 143 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز نے پاکستانی بولنگ کو بے بس کر دیا۔

پاکستانی ٹیم 311 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 228 رنز پر آؤٹ ہوکر 82 رنز سے ہار گئی۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ورلڈ کپ میں آخری ٹاکرا 2011 میں ہوا جس میں پاکستان نےچار وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

آسٹریلوی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 176 رنز ہی بنا سکی۔

بریٹ لی نے چار وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی ٹیم کو روکنے کی کوشش کی لیکن عمراکمل اور عبدالرزاق نے نیّا پار لگا دی۔

اسی بارے میں