’ یابا‘ کے برجستہ فقرے آج بھی گونجتے ہیں

Image caption یہ جنون کی حد تک کرکٹ کو پسند کرنے والے ’یابا‘ ہیں

سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کے مختلف اسٹینڈز کے باہر کئی آسٹریلوی کرکٹرز کے دھاتی مجسمے دیکھنے والی ہر نظر کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں لیکن جو مجسمہ دیکھنے والوں کو سب سے زیادہ اپنی جانب متوجہ کرتا ہے وہ میدان کے اندر شائقین کی نشستوں میں سے ایک پر نصب ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے کوئی تماشائی اپنی نشست پر بیٹھا میدان کی طرف منہ کر کے زور سے چلا رہا ہے۔ یہ یابا ہیں۔

یابا نے سٹیون ہیرلڈ گیسکوئن کے نام سے دنیا میں جنم لیا لیکن بچپن سے باتونی ہونے کے سبب وہ یابا کے نام سے پہچانے گئے اور جب یابا نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کا رخ کیا تو جیسے آسٹریلوی کرکٹ ان کی طلسماتی شخصیت کے زیراثر ہوگئی۔

یابا کو کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار تھا۔ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں شیفلڈ شیلڈ اور ٹیسٹ کرکٹ کے شاید ہی ایسے چند میچز ہوں جو یابا نے نہ دیکھے ہوں۔

Image caption یابا کی وفات 1942 میں ہوئی

وہ میدان میں آکر سڈنی ہل ( پہاڑی ) پر جگہ سنبھال لیتے۔ وہ بڑے انہماک سے کھیل دیکھتے اور اپنے برجستہ فقروں سے میچ کی رونق بڑھا دیتے۔

انہوں نے فقرے کسنے میں کبھی شائستگی کا دامن نہیں چھوڑا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے دلچسپ جملوں اور حسِ مزاح سے شاید ہی کوئی کرکٹر بچا ہو۔ ان کے مشہور فقرے کرکٹ لٹریچر کا حصہ بن چکے ہیں۔

ایک مرتبہ نواب آف پٹودی سینیئر بہت سست بیٹنگ کر رہے تھے تو سڈنی ہل سے یابا کی آواز گونجی۔’امپائر صاحب، بیٹسمین میں سکہ ڈالیں تاکہ یہ چل پڑیں۔ پتہ چلا اس میچ کے امپائر گیس میٹر انسپکٹر تھے ۔

اس زمانے کے کرکٹرز بھی یابا کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ سر جیک ہابس نے جب سڈنی میں اپنا الوداعی میچ کھیلا تو وہ خاص طور پر یابا کے پاس گئے اور ان سے مصافحہ کیا۔

یابا آٹھ جنوری 1942 کو 63 سال کی عمر میں دل کے عارضے کے سبب انتقال کرگئے تو ان کی موت کے بعد سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل ان کی یاد میں چند لمحے کی خاموشی اختیار کی گئی۔

سڈنی ہل کو بعد میں یابا ہل کا نام دیا گیا۔ 2007 میں یہ پہاڑی اور ڈگ والٹرز اسٹینڈ کو مسمار کر کے وکٹر ٹرمپر سٹینڈ بناد یا گیا لیکن یابا سے محبت کے سبب اس سٹینڈ کی ایک نشست پر ان کا دھاتی مجسمہ نصب کر دیا گیا۔

اسی بارے میں