مصباح الحق ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح پر سست روی سے رن بنانے پر بہت تنقید کی جاتی ہے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ون ڈے کرکٹ سے رئیٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مصباح کا کہنا تھا کہ ٹیم کی ناکامی کی ذمےداری ایک شخص پر نہیں ڈالی جاسکتی اس کے لیے کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی کے تحت ٹیم کے چناو کا اختیار سلیکشن کمیٹی کو ہوتا ہے۔ کپتان اور کوچ اپنی رائے تو دے سکتے ہیں لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلے کا اختیار کمیٹی کے پاس ہے۔ ان کا یہ حق نہیں تھا کہ وہ اختلاف کرتے۔

„یہ تو پالیسی پر منحصر ہے۔ یا تو کپتان سلیکشن کا ذمےدار ہو تو اسے جوبداہ بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن پی سی بی کی پالیسی یہ نہیں۔ تاہم میرا خیال ہے کہ کپتان اور کوچ کو بھی ٹیم سلیکشن میں اختیار ملنا چاہیے„۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم نے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں اپنی طرف سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشیش کی لیکن بہت سے مواقع ضائع بھی ہوئے۔

ہم میں ابھی بیٹنگ یونٹ کے طور پر اتنی میچیورٹی نہیں آئی کہ ہم نے کس طرح بڑی اننگز کھیلنی ہے۔ یہ ہمارا مسئلہ رہا ہے ٹورنامنٹ میں۔ ہوسکتا ہے مزید ٹریننگ اور میچ کھیلنے سے یہ صورتحال بہتر ہوجائے”۔

سرفراز احمد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ وہاں ٹورنامنٹ سے پہلے سرفراز نے پانچ اننگز کھیلیں لیکن ان سے رنز نہیں ہورتھے اور وہ ایڈجسٹ نہیں کرپارہے تھے۔ ان کا اور وقار یونس کا سرفراز کے ساتھ کوئی ایشو نہیں تھا۔ انھوں نے ہی متحدہ عرب امارات میں سرفراز کو پرموٹ کیا تھا۔

مصباح کا کہنا تھا کہ کوارٹر فائنل تک پہنچنے کا کریڈٹ پاکستان کے باولر کو جاتا ہے۔ فیلڈنگ اور بیٹنگ میں بہت زیادہ کمزوریاں ہیں۔

’میں نے اپنی طرف سے مخلصانہ کوشیشں کی۔ میں اپنے کام سے مطمئن ہوں۔ جو ٹیم کے لیے کرسکتا تھا وہ کیا۔ مستقبل میں پاکستانی ٹیم کے لیے دعا ہے۔ اگر مجھ سے کوئی مشورہ مانگا گیا ٹیم کی بہتری کے لیے تو ضرور دوں گا۔‘

مصباح الحق نے ورلڈکپ کے دوران ٹیم پر شدید تنقید کے حوالے سے میڈیا ہاوسز سے شکوہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنئیر کھلاڑیوں نے اخلاقیات سیکھی ہی نہیں۔ وہ ایسے لفظ استعمال کرتے ہیں کہ سوچ کر تکلیف ہوتی ہے۔ کرکٹ ایکسپرٹ بنانے کے لیے کوئی معیار ہونا چاہیے۔ اگر جو ہوا ہے وہ ہوتا رہا تو لوگ کرکٹ سے متنفر ہوجائیں گے۔

’کرکٹ میں کچھ بھی غلط ہورہا ہے وہ ایک شخص کی وجہ سے نہیں ہے۔ سری لنکن ٹیم پر حملہ میں نے نہیں کروایا۔ کیچ میں نے ڈراپ نہیں کروائے۔ کرکٹ ٹیم کے مسائل کا حل پیش کریں۔ ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں کی عزتیں اتارنے کا کوئی جوازنہیں۔‘

شاہد آفریدی کی سلیکشن سے متعلق مصباح کا کہنا تھا کہ وہ واحد آل روانڈر تھے۔ ان کی فارم اچھی تھی اور ساتویں نمبر پر ہمارے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں تھا۔ اسی لیے انھیں کھلایا گیا۔ تاہم وہ پرفارم نہیں کرسکے۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ سب کھلاڑیوں نے ورلڈ کپ کے دوران بہتر کارکردگی دینے کی بھرپور کوشیش کی۔ کسی کی نیت پر شک نہیں ہے۔

’افسوس ہے کہ ہم کامیاب نہیں ہوسکے۔ جو بہتر تھے وہ آگے گئے لیکن ٹورنامنٹ کے دوران ماحول اچھا رہا اور سب نے متحد ہوکر جیتنے کی کوشیش کی۔ اسی لیے کوارٹر فائنل تک پہنچے۔‘

مصباح کا کہنا تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ تاہم ون ڈے کرکٹ میں واپسی کا ارادہ نہیں ہے۔ کرکٹ بورڈ جس کو چاہے کپتان مقرر کرے۔

اسی بارے میں