دفاعی چیمپیئن بھارت کو ہرا کر آسٹریلیا فائنل میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کھیل کا ایک ڈرامائی لمحہ جب مچل جانسن نے روہت شرما کو کلین بولڈ کر دیا۔ اس سے پہلی گیند پر شرما نے جانسن کو چھکا لگایا تھا

سڈنی میں کھیلے جانے والے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے بھارت کو 95 رنز سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

بھارت کے آخری کھلاڑی امیش یادو بھی سکور میں بنا کوئی اضافہ کیے مچل سٹارک کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔

اس سے پہلے 46 ویں اوور میں ایشون پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ان کے بعد آنے والے موہت شرما اگلی ہی گیند پر بنا کوئی رنز بنائے پوولین لوٹ گئے۔ دونوں کو جمیمز فاکنر نے کلین بولڈ کیا۔

میچ کا لائیو سکور کارڈ

آسٹریلیا کی جانب سے جیمز فاکنر نے تین جبکہ مچل سٹارک اور مچل جانسن نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

وراٹ کوہلی لمبے سکور کے تعاقب میں عمدہ اننگز کھیلتے ہیں، اور وہ اس سے قبل آسٹریلیا کے خلاف ساڑھے تین سو سے بڑے سکور کے کامیاب تعاقب میں دو بار کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں، لیکن وہ آج کے میچ میں صرف ایک رن بنا کر مچل جانسن کے باؤنسر پر وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

ان کے بعد مچل جانسن نے روہت شرما کو 34 رنز پر بولڈ کر دیا۔ سریش رائنا بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور سات رنز بنا کر جیمز فاکنر کی گیند پر ہیڈن کو کیچ تھما بیٹھے۔

شیکھر دھون نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 41 گیندوں پر 45 رنز بنائے لیکن اس کے بعد وہ ہیزل وڈ کی ایک گیند پر ایکسٹرا کور کے اوپر سے اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں میکسویل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اجنکیا رہانے 44 رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر آؤٹ ہوئے ۔ امپائر دھرما سینا نے ابتدا میں انھیں آؤٹ نہیں دیا تھا البتہ آسٹریلیا نے ریویو کیا جس پر ٹی وی امپائر نے سنِکو میٹر کی مدد سے رہانے کو آؤٹ کرنے کا فیصلہ دے دیا۔

مہندر سنگھ دھونی 65 رنز بنا کر میکسویل کی اور روندرا جدیجا 16 رنز بنا کر سمتھ کی تھرو پر رن آؤٹ ہوئے۔

اس سے قبل آسٹریلیانے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور اپنی اننگز کے اختتام پر سات وکٹوں کے نقصان پر 328 بنائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سٹیو سمتھ نے بھارت کے خلاف تباہ کن بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک اور سینچری سکور کی

آسٹریلیا کے سکور کے معمار ان فارم بیٹسمین سٹیو سمتھ تھے جنھوں نے بھارت کے خلاف اچھی بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صرف 89 گیندوں پر شاندار سینچری مکمل کی۔ سمتھ اور آرون فنچ کے درمیان دوسری وکٹ کے لیے 182 رنز کی شراکت ہوئی، جس نے بعد میں آنے والے بلےبازوں کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا۔

ایک موقعے پر ایسا لگ رہا تھا کہ آسٹریلیا ساڑھے تین سو سے اوپر سکور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، لیکن اس کے کھلاڑی سکور میں تیزی سے اضافہ کرنے کی کوشش میں اوپر تلے آؤٹ ہوتے رہے، جن سے رنز کی رفتار دھیمی پڑ گئی۔

تاہم مچل جانسن (نو گیندوں پر 27 رنز)، گلین میکسویل (14 گیندوں پر 23 رنز) اور شین واٹسن (30 گیندوں پر 28 رنز) نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کی ٹیم ایک نہایت عمدہ پوزیشن پر پہنچ جائے۔

بھارت کی جانب سے امیش یادو تھوڑے مہنگے ضرور ثابت ہوئے لیکن انھوں نے چار وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے علاوہ موہت شرما نے دو اور ایشون نے ایک وکٹ لی۔ ایشون بھارت کے سب سے کفایتی بولر ثابت ہوئے اور انھوں نے مقررہ دس اووروں میں صرف 42 رنز دیے۔

کھیل کے آغاز میں آسٹریلیا کے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے افتتاحی بلے باز ڈیوڈ وارنر نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا، لیکن وہ سات گیندوں پر 12 رنز بنا کر امیش یادو کی ایک گیند پر کوہلی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

دوسرے اوپنر آرون فنچ نے نسبتاً سست رفتاری سے بیٹنگ کرتے ہوئے 116 گیندوں پر 81 رنز سکور کیے، لیکن اس سے قبل کہ وہ ہاتھ کھولتے، انھیں امیش یادو نے ایک شارٹ پچ گیند پر آؤٹ کر دیا۔ ان کے بعد کپتان مائیکل کلارک آئے لیکن وہ صرف دس رنز بنا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آرون فنچ (دائیں) نے آج نسبتاً سست رفتاری سے بیٹنگ کی ہے

اس سے قبل اننگز کی ابتدا میں بھارت کے دونوں بولروں محمد شامی اور امیش یادو نے بھی نہایت عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ یادو نے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے قریب گیندیں پھینکیں، جب کہ شامی نے اپنی لائن اور لینتھ سے آسٹریلوی بلے بازوں کو سکورنگ کے زیادہ مواقع نہیں دیے۔

دونوں ٹیموں نے اپنی لائن اپ میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور انھی ٹیموں پر انحصار کیا جنھوں نے کوارٹر فائنل میں فتح حاصل کی تھی۔

دلچسپ بات یہ کہ آسٹریلیا نے اب تک کرکٹ ورلڈ کپ میں کوئی سیمی فائنل نہیں ہارا، جب کہ بھارت نے تین میں سے دو سیمی فائنل جیتے ہیں۔ بھارت دفاعی چیمپیئن ہے۔

یہ میچ جیتنے والی ٹیم 29 مارچ کو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں فائنل میں نیوزی لینڈ کا مقابلہ کرے گی جس نے 24 مارچ کو ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ کو شکست دی تھی۔

میچ کے امپائر سری لنکا کے دھرماسینا اور انگلستان کے کیٹل برا ہیں، جب کہ ٹی وی امپائر جنوبی افریقہ کے اریزمس ہیں۔