آسٹریلیا پانچویں بار کرکٹ ورلڈ کپ کا فاتح

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک اپنے آخری ایک روزہ میچ میں 74 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے

آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد سات وکٹوں سے شکست دے کر پانچویں مرتبہ کرکٹ کا عالمی کپ جیت لیا ہے۔

اتوار کو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے میچ میں آسٹریلیا کو فتح کے لیے 184 رنز کا ہدف ملا جو اس نے باآسانی 34ویں اوور میں حاصل کر لیا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

ورلڈ کپ کے فائنل میچ کی تصاویر

آسٹریلیا نے اس سے قبل 1987، 1999، 2003 اور 2007 میں ورلڈ کپ جیتا تھا جبکہ 1975 میں اسے ویسٹ انڈیز اور 1996 میں سری لنکا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی تھی۔ اس سے قبل اس نے عالمی مقابلے کے چھ سیمی فائنل کھیلے لیکن ہر بار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آسٹریلوی فتح میں اہم کردار کپتان مائیکل کلارک اور سٹیون سمتھ نے نصف سنچریاں بنا کر ادا کیا۔

کلارک اپنے آخری ایک روزہ میچ میں 74 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ سمتھ نے 54 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مچل سٹارک اس ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے ہیں

ان دونوں نے تیسری وکٹ کے لیے 112 رنز کی شراکت بھی قائم کی ہے۔

سمتھ اور کلارک کے علاوہ اوپنر ڈیوڈ وارنر نے بھی 45 رنز بنائے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے میٹ ہنری نے دو جبکہ ٹرینٹ بولٹ نے ایک وکٹ لی۔

یہ بولٹ کی اس ٹورنامنٹ میں 22ویں وکٹ تھی اور وہ آسٹریلیا کے مچل سٹارک کے ہمراہ مشترکہ طور پر ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بنئے۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کلم نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو پوری ٹیم 45 اوورز میں 183 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سیمی فائنل کے مردِ میدان گرانٹ ایلیئٹ نے راس ٹیلر کے ساتھ مل کر 111 رنز کی شراکت قائم کی

سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کی فتح میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ایلیئٹ نے فائنل میں بھی نصف سنچری بنائی لیکن ان کا ساتھ دینے کے لیے راس ٹیلر کے سوا کوئی بھی وکٹ پر نہ ٹھہر سکا۔

ایلیئٹ 83 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ ٹیلر نے 40 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان دونوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 111 رنز کی شراکت قائم کی۔

بقیہ بلے بازوں میں سے کوئی بھی آسٹریلوی بولرز کی نپی تلی بولنگ کا سامنا نہ کر سکا۔

آسٹریلیا کی جانب سے جیمز فاکنر اور مچل جانسن تین، تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ مچل سٹارک نے دو اور گلین میکسویل نے ایک وکٹ لی۔

اس میچ کے لیے دونوں ممالک نے وہی ٹیم میدان میں اتاری جس نے سیمی فائنل مقابلوں میں فتح حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں