مجھے ٹرافی کیوں نہیں دینے دی، آئی سی سی کےصدر مستعفیٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption مصطفیٰ کمال کے عہدے کی معیاد چند ماہ میں ختم ہونے والی تھی

آئی سی سی کےسربراہ مصطفیٰ کمال نے آئی سی سی پر غیر قانونی انداز میں کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئےاپنے عہدے سےاستعفی دے دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ انھیں ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کوٹرافی دینے سےروکاگیا تھا۔

آسٹریلیا سے واپسی پر ہوائی اڈے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ سب نے دیکھا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے میچ کے دوران کیا ہوا، بھارت اپنا اثر ورسوخ استعمال کر کے میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہوا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس گھڑی سے میں آئی سی سی کا سابق سربراہ ہوں۔ اگر یہ کسی اور ملک کے خلاف ہوا ہوتا تب بھی میں نے یہی فیصلہ ہونا تھا‘

خیال رہے کہ مصطفیٰ کمال نے جو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کےسربراہ بھی ہیں کوارٹر فائنل میں امپائروں پر جان بوجھ کر غلط فیصلے کرنے کا الزام لگایا تھا۔ کمال نے میچ میں روہت شرما کو ناٹ آؤٹ قرار دینے پر تنقید کی تھی۔اس میچ میں پاکستانی ایمپائر علیم ڈار امپائرنگ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ بات کرکٹ کے مداح کے طور پر کی تھی آئی سی سی کے سربراہ کے طور پر نہیں، لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے مصطفیٰ کمال کی تنقید کو ’بد قسمتی‘ قرار دیا تھا۔

کمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی سی سی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنا بیان واپس لیں یا اس پر معافی مانگیں وگرنہ انھیں فائنل میں فاتح کپتان کو ٹرافی دینے کی ذمہ داری ان سے واپس لے لی جائے گی۔

’ میں نے ان کو بتایا تھا کہ میں نے کسی مخصوص ملک یا شخص پر الزام نہیں لگایا میں معافی کیوں مانگوں؟ میں آئی سی سی کا سربراہ ہوں میں کس سے معافی مانگوں۔‘

بھارت سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے چیئرمین سری نواسن نے ورلڈ کپ کی فاتح آسٹریلیا کی ٹیم کے کپتان مائیکل کلارک کو ٹرافی دی تھی۔

واضع رہے کہ مصطفیٰ کمال کے عہدے کی معیاد چند ماہ میں ختم ہونے والی تھی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ نجم سیٹھی آئی سی سی کے اگلے سربراہ ہوں گے۔

اسی بارے میں