زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے مئی میں پاکستان آنے کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زمبابوے کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے پر رضامند ہے

پاکستان کے شہر لاہور میں سنہ دو ہزار نو میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے والی پہلی ٹیم ہو سکتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے جمعرات کو کہا ہے کہ زمبابوے کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہے، جس کے دوران پانچ ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے جائیں گے۔

شہر یار خان اس امید کا اظہار کیا کہ یہ دورہ اگلے ماہ ممکن ہو سکتا ہے۔

شہر یار خان نے کہا کہ ’ہم نے انھیں بتا دیا ہے کہ وہ مئی کے مہینے میں پاکستان آ سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مئی میں پاکستان میں شدید گرمی ہوتی ہے لیکن پاکستان کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھولنے کے لیے بڑا موقع ہو سکتا ہے۔‘

شہر یار خان دبئی میں اگلے ہفتے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کےاجلاس کے دوران زمبابوے کے کرکٹ حکام سے ملاقات کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ آپ بہت جلد بہت اچھی خبر سنیں گے۔‘

لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کسی ملک کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔

شہر یار خان نےکہا کہ تین ایک روزہ میچوں کی میزبانی لاہور کرے گا۔ جبکہ تین ایک روزہ میچ کراچی میں کھیلے جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ چھ برس کے دوران آئی سی سی کے دو ایسوسی ایٹ ارکان افغانستان اور کینیا کی میزبانی کر چکا ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ رکھنے والی کسی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔

بنگلہ دیش حالیہ برسوں میں دو مرتبہ پاکستان کا دورہ منسوخ کر چکی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ان دوروں کو منسوخ کرنے پر پاکستان کو تین لاکھ ڈالر کا معاوضہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی جس کے بعد پاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش کا دورہ کرنے پر تیار ہوئی ہے۔

شہر یار خان نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ کے دروزاے آہستہ آہستہ پاکستان پر کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ نمیبیا اور نیپال کی ٹیموں نے بھی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم ان دنوں میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں