بھارتی آئس ہاکی ٹیم کی عوامی چندہ مہم

تصویر کے کاپی رائٹ AKSHAY KUMAR
Image caption اس وقت بھارت میں آئس ہاکی کے ڈھائی ہزار رجسٹرڈ کھلاڑی ہیں جبکہ 2002 میں آئس ہاکی ایسوسی ایشن کی تشکیل کے وقت یہ تعداد 300 تھی

مالی مشکلات کا شکار بھارت کی آئس ہاکی ٹیم نے ایک عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے درکار رقم جمع کرنے کے لیے عوام سے چندہ مانگا ہے۔

ٹیم کے کھلاڑی کویت میں آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے آئس ہاکی کے عالمی فیڈریشن کپ میں حصہ لینا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس اس سفر کے لیے درکار رقم نہیں۔

25 رکنی سکواڈ کو امید ہے کہ وہ 20 لاکھ بھارتی روپے کی وہ رقم جمع کر پائیں گے جو انھیں اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے چاہیے۔

بھارتی آئس ہاکی ایسوسی ایشن نے اس چندہ مہم کا آغاز گذشتہ ہفتے ٹوئٹر پر SupportIceHockey# کے ہیش ٹیگ کے ساتھ کیا تھا اور اس مقصد کے لیے ایک ویب سائٹ بھی قائم کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ آئس ہاکی کی تنظیم کی جانب سے یہ اپیل ایسے موقعے پر ہوئی ہے جب ملک کی فیلڈ ہاکی فیڈریشن نے حال ہی میں ہمسایہ ملک پاکستان کی ہاکی فیڈریشن کو مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔

بھارتی آئس ہاکی ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر اکشے کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بدھ تک چھ لاکھ روپے جمع کر لیے تھے جن میں جنوبی بھارت کے ایک بڑے بزنس گروپ کی جانب سے ملنے والی امداد بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AKSHAY KUMAR
Image caption بھارت کی آئس ہاکی ٹیم سنہ 2009 سے عالمی مقابلوں میں حصہ لیتی آئی ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ملک کے سرکردہ کاروباری گروپ مہندرا کے سربراہ آنند مہندرا نے بھی پانچ لاکھ روپے کی مدد کی وعدہ کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کھلاڑیوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ’چک دے برف پہ‘ کا نعرہ لگایا۔

اکشے کمار کے مطابق اس کے علاوہ عوام کی جانب سے بھی اس سلسلے میں اچھا اور مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور اب تک وہ ساڑھے تین لاکھ روپے سے زیادہ کا چندہ دے چکے ہیں۔

بھارت کی آئس ہاکی ٹیم سنہ 2009 سے عالمی مقابلوں میں حصہ لیتی آئی ہے تاہم اکشے کا کہنا ہے کہ ’مالی معاملات ہمیشہ سے ہی اچھے نہیں رہے۔ ہم ٹیم کو کھلانے کے لیے ذاتی حیثیت میں اخراجات کرتے رہے ہیں لیکن ہر بار یہ ممکن نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت ہمیں کہتی ہے کہ تمغہ جیت کر لاؤ تو ہم تمھیں فنڈ دیں گے۔ یہ مرغی پہلے آئی یا انڈا والا معاملہ ہے۔‘

اگرچہ برصغیر میں آئس ہاکی کا کھیل زیادہ مقبول نہیں لیکن یہاں اسے ایک صدی قبل برطانوی نوآبادیاتی دور میں متعارف کروایا گیا جب حکمران انگریز شملہ میں یہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔

بعدازاں 1970 کی دہائی میں لداخ میں تعینات بھارتی فوجیوں نے اس میں دلچسپی دکھائی اور اب اس وقت بھارت میں آئس ہاکی کے ڈھائی ہزار رجسٹرڈ کھلاڑی ہیں جبکہ 2002 میں آئس ہاکی ایسوسی ایشن کی تشکیل کے وقت یہ تعداد 300 تھی۔

اگرچہ لداخ میں آئس ہاکی کھیلنے کے لیے کئی قدرتی میدان موجود ہیں لیکن ملک میں عالمی معیار کا واحد آئس رنک ڈیرہ دون میں ہے جو کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے 2012 سے بند پڑا ہے۔

اکشے کمار کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں کھلاڑی ممبئی، گڑگاؤں، کوچن اور بنگلور میں موجود چھوٹے رنکس میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔