’دوسرے کیپر کی موجودگی سے کوئی پریشانی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرفراز احمد ورلڈ کپ میں دو قابل ذکر اننگز کھیلنے کے بعد بنگلہ دیش کے دورے میں بھی عمدہ کارکردگی کے لیے پرعزم ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد نائب کپتان بننے پر خوش ہیں لیکن ٹیم میں ایک اور وکٹ کیپر محمد رضوان کی موجودگی پر قطعاً پریشان نہیں ہیں۔

’یہ ایک اچھا قدم ہے کہ میرے ساتھ ایک اور وکٹ کیپر ٹیم میں موجود ہے۔ اس فیصلے کو میں مثبت انداز اور صحت مندانہ مقابلے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ مجھے اپنی کارکردگی اچھی رکھنی ہوگی۔ جو بھی پرفارم کرے گا وہ کھیلے گا۔‘

واضح رہے کہ محمد رضوان ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے دورے کے لیے ون ڈے ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔

انھوں نے دسمبر میں قائداعظم ٹرافی کے فائنل میں ڈبل سنچری سکور کی تھی جس کے بعد انھوں نے پنٹنگولر کپ ایک روزہ ٹورنامنٹ میں بھی دو سنچریاں بنائی تھیں۔

سرفراز احمد ورلڈ کپ میں دو قابل ذکر اننگز کھیلنے کے بعد بنگلہ دیش کے دورے میں بھی عمدہ کارکردگی کے لیے پرعزم ہیں۔

’ہر کھلاڑی کی طرح میری بھی کوشش ہو گی کہ میں بنگلہ دیش کے دورے میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کروں۔ یہ دورہ آسان نہیں ہے۔ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیشی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی۔ اپنے ہوم گراؤنڈ پر وہ ایک مضبوط ٹیم ہے اور ہمیں اپنی تمام ترصلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہو گا۔‘

سرفراز احمد ٹیم کی نئی شکل کو پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کے تناظر میں بہت اہمیت دیتے ہیں۔

’مصباح الحق ایک عرصے تک پاکستانی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے کھیلتے رہے ہیں۔ ان کی ون ڈے سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب یہ ایک نوجوان ٹیم ہے۔ اظہرعلی نئے کپتان بنے ہیں۔ ان سے میری بہت اچھی دوستی ہے۔ اسد شفیق اور فواد عالم کی بھی واپسی ہوئی ہے۔ ایک اچھا ماحول بنا ہوا ہے۔ ٹیم منیجمنٹ بھی تمام کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور مجھے امید ہے کہ بنگلہ دیشی دورے میں اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

ورلڈ کپ میں سرفراز احمد کی بیٹنگ پوزیشن پر کافی بحث ہوئی تھی اور اب بھی یہ سوالات کیےجا رہے ہیں کہ ان کے لیے کون سا نمبر موزوں ہے لیکن خود سرفراز احمد اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے۔

’جہاں تک میرے اوپنر کھیلنے کا تعلق ہے تو میں اوپنر، مڈل آرڈر اور ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرتا رہا ہوں اور ٹیم منیجمنٹ کو جس نمبر پر میری ضرورت پڑی میں بیٹنگ کروں گا۔ یہ فیصلہ ٹیم منیجمنٹ کو کرنا ہے۔‘

سرفراز احمد یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ انھیں ون ڈے کی کپتانی اس لیے نہیں دی گئی ہے کہ ان کی انگریزی کمزور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ انگریزی بول بھی لیتے ہیں اور سمجھ بھی لیتے ہیں لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہےکہ ان کی انگریزی کمزور ہے تو میں اسے بھی بہتر کر لوں گا۔‘

سرفرازاحمد کو بھارتی فلم ’پی کے‘ کے ڈائیلاگ سے ضرور پریشانی ہے، جو اب انھیں دیکھ کر ادا کیا جاتا ہے ۔سرفراز احمد چاہتے ہیں کہ اس سے ان کی جان اب چھوٹ جانی چاہیے۔

اسی بارے میں