’خراب رویے والے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تمیز کے دائرے میں رہ کر تنقید کرنے والوں کی عزت کرتے ہیں لیکن جو لوگ تمیز کے دائرے میں تنقید نہیں کرتے انھیں ان کی پروا نہیں ہے: وقار یونس

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم میں اس کھلاڑی کی کوئی ضرورت نہیں جس کا رویہ ٹیم کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ 20 کروڑ افراد میں سے منتخب ہوئے ہیں لہذا انھیں ملک وقوم کے لیے کھیلنا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی کپ کے بعد ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں کو کپتان کوچ اور منیجر کی رپورٹ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور بنگلہ دیش دورے کے لیے ٹیم منتخب کرتے ہوئے چیف سلیکٹر ہارون رشید نے بھی یہ کہا تھا کہ کھلاڑیوں کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں اور اپنے کھیل میں سنجیدگی اختیار کریں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ٹیم میں شامل نہ کیے جانے کا بنیادی سبب ان کا عالمی کپ کے دوران مبینہ منفی رویہ تھا جس کے بارے میں کوچ وقار یونس نے اپنی رپورٹ میں بھی لکھا تھا۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات پر حیرانی ہے کہ ان کی رپورٹ باہر آگئی۔

عالمی کپ کے دوران ان کے جو بھی تحفظات تھے وہ انھوں نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیے تھے اور انھیں خوشی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے رویوں کے بارے میں قدم اٹھایا اور کچھ چیزوں پر عمل کیا۔

وقار یونس نے کہا یہ کسی کی ذاتی ٹیم نہیں ہے بلکہ پاکستان کی ٹیم ہے اس میں جو اچھا کرے گا اور جس کی ٹیم کے ساتھ سنجیدگی ہوگی وہی کھیلے گا۔

وقار یونس نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ سینیئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

وقار یونس نے کہا کہ اگر صحیح وقت پر نوجوان باصلاحیت کرکٹرز ٹیم میں شامل نہ کیےجائیں تو آپ دنیا کی دوسری ٹیموں سے بہت پیچھے رہ جائیں۔گذشتہ ورلڈ کپ میں بھی نوجوان کھلاڑی شامل کیے جاسکتے تھے لیکن نہیں کیےگئے۔

وقار یونس نے کہا کہ وہ تمیز کے دائرے میں رہ کر تنقید کرنے والوں کی عزت کرتے ہیں لیکن جو لوگ تمیز کے دائرے میں تنقید نہیں کرتے انھیں ان کی پروا نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ مصباح الحق اور یونس خان کی پاکستان کی کرکٹ کے لیے بہت خدمات ہیں یہ دونوں اب بھی ٹیسٹ کرکٹ کا حصہ ہیں لیکن ون ڈے میں اظہرعلی کی شکل میں نیا کپتان ملا ہے اور ہمیں نئے کھلاڑی ملے ہیں جو باصلاحیت ہیں اور ان کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ اپنا انتخاب درست ثابت کریں۔

وقار یونس کے مطابق انھیں یقین ہے کہ یہ کھلاڑی آنے والے کئی برسوں تک پاکستانی کرکٹ کی خدمت کر سکتے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ نے کہا کہ سعید اجمل کی تعریف کرنی چاہیے کہ انھوں نے آٹھ ماہ انٹرنیشنل کرکٹ سے دور رہنے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنے بولنگ ایکشن پر کام کیا اور یہ دورہ ان کے لیے امتحان ہے کہ جس سے پتہ چلے گا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔

اسی بارے میں