ماؤنٹ ایورسٹ کے مددگار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماؤنٹ ایورسٹ سطح سمندر سے 8848 میٹر بلند ہے اور یہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے

اس ہفتے دنیا بھر کے کوہ پیما دنیا کے سب سے بلند پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے لیے اپنی جان پر کھیل کر برفیلی چٹانوں سے گزر رہے ہیں۔

کوہ پیمائی کے لیے خوشگوار موسم کے اس مختصر سے وقفے میں مون سون کی آمد سے قبل کئی سو کوہ پیما ایورسٹ کو سر کرنے کی امید کر رہے ہیں۔

تاہم گذشتہ سال پیش آنے والے واقعات ابھی لوگوں کے ذہن سے محو نہیں ہوئے ہوں گے۔

گذشتہ سال 18 اپریل کو برف کے تودے کھسکنے سے 16 شرپا ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب وہ ایورسٹ کے دامن میں کھمبو گلیشیئر پر رہنمائی کے لیے رسیاں نصب کر رہے تھے۔

اس سانحے کے بعد ایورسٹ کے گائیڈوں نے پرزور احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے زیادہ معاوضے اور انشورنس کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے بعد سے مغربی ممالک سے آنے والے کوہ پیماؤں اور نیپال کے مقامی شرپاؤں کے درمیان تنازعات بھی سامنے آئے تھے۔

برف کے تودے گرنے کے بعد شرپاؤں نے کوہ پیمائی کے بہترین سیزن کے دوران اپنے ساتھیوں کی موت پر ان سے اظہارِ عقیدت کے لیے کام بند کر دیا اور سینکڑوں کوہ پیماؤں کو مایوسی کے عالم میں اپنے گھروں کو لوٹنا پڑا۔

ایک سال بعد غصہ بہت حد تک کم ہو گیا ہے اور شرپا اپنے کام پر لوٹ رہے ہیں۔

سات بار ایورسٹ پر کامیابی کے ساتھ پہنچنے والے 39 سالہ پسانگ شرپا نے کہا: ’ہمارے تقریباً دو تہائی مطالبے پورے ہو چکے ہیں اور باقی پر عمل جاری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ سال برف کے تودوں کی زد میں آ کر 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے

حکومت نے انشورنس کی رقم میں 50 فی صد کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 15 ہزار امریکی ڈالر کر دیا ہے جبکہ طبی بیمے میں ایک تہائی کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کہ اضافی رقم اس مہم کا انتظام و انصرام کرنے والی کمپنیاں دیں گی۔

اس کے علاوہ زیادہ طبی عملے اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بچاؤ کے نظام کو بھی بہتر بنایا گيا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایورسٹ کی چوٹی کو سر کرنے کا راستہ بدل دیا گیا ہے اب اسے پیچیدہ کھمبو گلیشیئر میں لٹکتی ہوئی برف کی چٹانوں کے راستے کے بجائے ذرا دور سے مقرر کیا گیا ہے جہاں لٹکتی ہوئی چٹانوں کے نیچے دبنے کا کم خطرہ ہے۔ اگرچہ اس راستے کو مشکل کہا جاتا ہے تاہم اس میں برف کے تودے کا خطرہ کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال کے سانحے کے بعد نیپال کے مقامی گائڈ شیرپاؤں نے حکومت سے کئی مطالبات کیے

یہ شرپاؤں کے لیے اہم ہے کیونکہ انھیں پہاڑ پر سامان لانے کے لیے کئی بار چڑھنا اترنا پڑتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سا راستہ زیادہ محفوظ ہے۔

شرپا برادری کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال مطمئن ہیں لیکن چاہیں گے کہ ان کے لیے مزید کام کیا جائے۔

گذشتہ سال کی امدادی ٹیم کے ایک رکن 32 سالہ پھورا گلجن شرپا کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو پہاڑوں میں رہنمائی کرنے والوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے انتظام کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر اچھے کوہ پیماؤں کے لیے پنشن کا انتظام بھی ہو جائے تو ان کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ حتی المقدور کوشش کر رہی ہے۔

Image caption اس بلند ترین پہاڑ کو سر کرنے کے راستے میں اس بار بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں

وزارت سیاحت کے ڈائرکٹر جنرل تلسی گوتم نے کہا: ’ہمیں زمینی حقائق پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔ اگر ہم سہولیات میں اضافہ کرتے رہے تو کوہ پیمائی کے اخراجات میں اضافہ ہوتا جائے گا اور مختلف ممالک سے آنے والے کوہ پیما چین کی جانب سے چوٹی سر کرنے کی کوشش کریں گے یا پھر دوسرے ممالک کے پہاڑوں پر کوہ پیمائی کے لیے جانے کو ترجیح دیں گے۔‘

نیپال میں انفرادی کوہ پیمائی کے مقابلے میں ٹیم کوہ پیمائی کی فیس کم ہے، لیکن جنوری سے حکومت نے انفرادی پرمٹ فیس میں کمی کرتے ہوئے اسے 25 ہزار ڈالر سے کم کر کے 11 ہزار ڈالر کر دیا ہے۔

گذشتہ سال تک کوہ پیماؤں کے سات ارکان پر مشتمل گروپ کے لیے 70 ہزار ڈالر دینے ہوتے تھے اور اس سال اس میں اضافہ ہوا ہے۔

Image caption دو سال قبل چھ سو سے زیادہ افراد نے کامیابی کے ساتھ ایورسٹ کی چوٹی پر جھنڈا گاڑا تھا

مختلف مسائل اور خطرات کے باوجود ایورسٹ سر کرنے کی خواہش میں کمی نہیں آئی ہے۔

پسانگ شرپا کا کہنا ہے: ’سانحے ہوتے رہتے ہیں، میں ایک بار ایک برفیلے طوفان میں میں بہہ گیا تھا اور تقریباً ایک گھنٹے تک بے ہوش رہا، لیکن میں ہوش میں آ گیا اور اب بھی کوہ پیمائی میں میری دلچسپی میں کوئي کمی واقع نہیں ہوئي ہے۔‘

اسی بارے میں