فارمیٹ مختلف لیکن نتیجہ نہیں بدلا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شبیر رحمن اور شکیب الحسن کی نصف سنچریوں اور شاندار سنچری شراکت پاکستانی ٹیم کی مایوسی میں اضافہ کرتی چلی گئی

پاکستانی ٹیم کی بنگلہ دیش کے خلاف محدود اوورز کی کرکٹ محدود سوچ اور لامحدود مسائل کے ساتھ اختتام کو پہنچ گئی۔

تین ون ڈے میچوں کی شکست کے بعد کھوئی ہوئی ساکھ کسی حد تک بحال کرنے کا موقع واحد ٹی ٹوئنٹی میں ہاتھ آیا تھا لیکن اسے بھی گنوا دیا گیا۔

شاہد آفریدی کی کپتانی میں پاکستان 23 میں سے 14 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ ہار چکا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ شاہد آفریدی نے اپنے پہلے 11 میچوں میں سات جیتے تھے لیکن آخری 12 میں انھیں 10 مرتبہ شکست ہوچکی ہے۔

پاکستان نے محمد رضوان اور مختار احمد کو پہلی بار ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔

مختار احمد جنھوں نے احمد شہزاد کے ساتھ اننگز کی ابتدا کی پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 37 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے لیکن احمد شہزاد جو ورلڈ کپ میں کوچ کی رپورٹ کی بنیاد پر صرف یہ ایک میچ کھیلنے کے لیے بنگلہ دیش گئے ہیں بولرز کو اپنے قابو میں نہ کر سکے اور انھوں نے صرف 17 رنز بنانے کے لیے 31 گیندیں کھیل ڈالیں ۔

یہی وجہ ہے کہ کپتان شاہد آفریدی کو رنز کی رفتار تیز کرنے کے لیے بیٹنگ آرڈر میں اوپر آنا پڑا لیکن ان کی بدقسمتی کہ ان کی اننگز امپائر کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئی اور اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے 19 سالہ تیز بولر مستیض الرحمن کو پہلی وکٹ مل گئی جنھوں نے بعد میں محمد حفیظ کی وکٹ بھی حاصل کی۔

پاکستانی ٹیم جس بیٹنگ آرڈر کے لحاظ سے یہ میچ کھیلی اس میں محمد رضوان اور سرفراز احمد بیٹھے ہی رہ گئے۔ خاص کر سرفراز احمد جنھوں نے صرف دو میچ پہلے نیوزی لینڈ کےخلاف آٹھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 76 رنز سکور کیے تھے اس میچ میں بڑی آسانی سے حارث سہیل سے اوپر بیٹنگ کے لیے بھیجے جا سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ حیران کن طور پر سہیل تنویر جیسے ناکام بیٹسمین کو بھی ان کی بجائے بیٹنگ کا موقع دے دیا گیا۔

حارث سہیل جنھیں پچھلے تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں صرف 15 رنز کی پرفارمنس پر سلیکٹ کیا گیا تھا اس مرتبہ 30 رنز بنانے میں کامیاب رہے ۔

محمد حفیظ ون ڈے سیریز کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد اس میچ میں چار چوکوں کی مدد سے 26 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے۔

ون ڈے سیریز کے کامیاب ترین بیٹسمین تمیم اقبال نے بنگلہ دیشی اننگز کے پہلے ہی اوور میں محمد حفیظ کی بولنگ پر دو چوکے اور ایک چھکا لگایا تو اندازہ ہوگیا کہ بنگلہ دیشی ٹیم کے جارحانہ تیور نہیں بدلے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی ٹیم کو تمیم اور سرکار کی وکٹیں جلد مل گئیں لیکن میزبان ٹیم نے رنز کی رفتار نہیں روکی۔

مشفق الرحیم کی مختصر جارحانہ اننگز کا وہاب ریاض نے خاتمہ کیا جس کے بعد شبیر رحمن اور شکیب الحسن کی نصف سنچریوں اور شاندار سنچری شراکت پاکستانی ٹیم کی مایوسی میں اضافہ کرتی چلی گئی۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں وکٹوں کے اعتبار سے تین سرفہرست بولرز عمرگل سعید اجمل اور شاہد آفریدی کو بنگلہ دیشی بیٹسمینوں نے جب چاہا جہاں چاہا اعتماد سے کھیلا۔

پاکستان کے خلاف پریکٹس میچ میں سنچری بنانے والے شبیر رحمن نے عمرگل کو تختہ مشق بنایا تو شکیب الحسن نے شاہد آفریدی کی گیندوں کو باؤنڈری کی راہ دکھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

سعید اجمل کا رعب اور دبدبہ ان کے تبدیل شدہ بولنگ ایکشن میں گم ہو چکا ہے۔

وہاب ریاض بھی رنز کے سیلاب میں بہہ گئے۔

اسی بارے میں