’آئی سی سی نے پاکستان میں کرکٹ بحالی کیلیے کچھ نہیں کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زمبابوے کی ٹیم کے پاکستان آنے سے دیگر بڑی ٹیموں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ ٹیمیں پاکستان نہیں آئیں گی: احسان مانی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا اور جو کوششیں بھی ہو رہی ہیں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ تنہا کر رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں کے نتیجے میں زمبابوے نے آئندہ ماہ اپنی ٹیم پاکستان کے مختصر دورے پر بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اس کی سکیورٹی ٹیم حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے پاکستان آ رہی ہے۔

مارچ سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملے کے بعد سے ٹیسٹ کھیلنے والی کسی بھی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔

احسان مانی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے آج تک ایسا کوئی بھی سکیورٹی پروٹوکول نہیں پڑھا جس میں آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے یہ کہا ہو کہ آپ فلاں باکس پر ٹک کردیں تو وہ یہ سمجھے گی کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوسکتی ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ آئی سی سی نے جو ٹاسک فورس قائم کی تھی اس نے بھی صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ردوبدل کے بارے میں کچھ بیان دیے تھے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔

انھوں نے کہ آئی سی سی کا زمبابوے کی ٹیم کے دورۂ پاکستان میں اپنے امپائرز نہ بھیجنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئی سی سی کو پاکستان پر اعتماد نہیں ہے وہ ابھی بھی پاکستان کو ہائی رسک اور اپنے آفیشلز کو غیرمحفوظ سمجھتی ہے۔

آئی سی سی کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ زمبابوے کی ٹیم کے پاکستان آنے سے دیگر بڑی ٹیموں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ ٹیمیں پاکستان نہیں آئیں گی۔

انھوں نے کہا کہ کینیا کی طرح زمبابوے کی ٹیم کو بھی پاکستان میں انتہائی غیرمعمولی سکیورٹی میں رکھا جائے گا۔ وہ کہیں باہر نہیں جا سکے گی نہ ہی لوگوں سے مل سکے گی۔

’یہ پہلا قدم ضرور ہے کہ کوئی ٹیم پاکستان آئے گی لیکن اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن مجھے امید ہے کہ آئر لینڈ کی ٹیم کے پاکستان آنے سے زیادہ فرق پڑے گا اور اس کے آنے سے پاکستان کے بارے میں لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آ سکے گی۔‘

اسی بارے میں