’ پیسہ زیادہ ضروری ہے نہ کہ ناقابلِ شکست ریکارڈ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 50 ناقابلِ شکست لڑائیاں آپ کے لیے تو خاص ہو سکتی ہیں لیکن میرے لیے نہیں

مشہور امریکی باکسر فلوئڈ مے ویدر نے سنیچر کو ہونے والے باکسنگ کی تاریخ کے سب سے مہنگے مقابلے سے قبل اپنے حریف باکسر مینی پیکیؤ پر یہ کہہ کر طنز کیا کہ انھیں زیادہ پیسے کمانے پر دھیان دینا چاہیے تھا۔

لاس ویگاس میں ہونے والا یہ مقابلہ باکسنگ کی تاریخ کا سب سے مہنگا مقابلہ سمجھا جا رہا ہے جس میں دونوں باکسروں کا حصہ تقریباً 150 ملین پاؤنڈ ہے۔ البتہ صحیح اعداد کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔

تاہم رقم کی تقسیم 40-60 کے تناسب سے مے ویدر کے حق میں ہے۔ امریکی باکسر کا کہنا ہے کہ ان کے حریف مینی پیکیؤ کی جانب سے بہتر خیال نہیں رکھا گیا۔

مے ویدر کا کہنا ہے کہ اگر ان کے حریف ہمارے ساتھ اس حوالے سے کام کرتے تو وہ 90 ملین پاؤنڈز بنا سکتے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ مالی لحاظ سے مینی نے اس لڑائی کے لیے بہتر منصوبہ بندی نہیں کی، جبکہ اس لڑائی کا مقصد صرف پیسہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لا ویگاس میں ہونے والا یہ مقابلہ باکسنگ کی تاریخ کا سب سے مہنگا مقابلہ سمجھا جا رہا ہے جس میں دونوں باکسرز کا حصہ تقریباً 150 ملین پاؤنڈز ہے۔ البتہ صحیح ھندسے کے بارے میں معلوم نہیں ہے

امریکی باکسر کا کہنا ہے کہ ’ سنیچر کا دن صرف کام کا دن ہے، میں وہی کروں گا جو میں کرتا ہوں لیکن میں اس لڑائی کے لیے 200 ملین ڈالر بنا لوں گا۔ جس میں 50 ملین ڈالر ہے میرے ہر بچے کے لیے، تو یہ ایک عقلمندانہ قدم ہے۔‘

پانچ بار کے مختلف کیٹگری میں عالمی چیمپین مے ویدر جن کو ’ منی‘ کا نام دیا گیا ہے اور چھ بار کے مختلف کیٹگری میں عالمی چیمپین رہنے والے پیکیؤ کے درمیان پہلی بار ملاقات جنوری میں میامی ہیٹ باسکٹ بال میچ کے دوران ہوئی تھی۔

38 سالہ امریکی باکسر کا کہنا ہے کہ ان کی ابتدائی ملاقات پیکیؤ سے میامی ہوٹل کے کمرے میں ہوئی تھی جو میرے معیار کے مطابق نہیں تھا۔

47 پروفیشنل مقابلوں میں ناقابلِ شکست رہنے والے مے ویدر کا کہنا ہے کہ ’ میں مینی کے پاس گیا اور اور کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آپ کے پروموٹر باب ارم آپ سے کیا کہہ رہے ہیں لیکن یہ سچ نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’جب مینی نے کہا کہ انھوں نے میرے ساتھ لڑنے کے لیے کاغذات پر دستخط کر دیے ہیں جس کے مطابق انھیں اپنے آدھے پیسوں کو الگ کر دینے پر دستخط کرنا تھا انھوں نے مجھ سے لڑنے کے لیے دستخط نہیں کیے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی باکسر کا کہنا ہے کہ ان کی ابتدائی ملاقات پیک یاؤ سے میامی ہوٹل کے کمرے میں ہوئی تھی

’میں نے مینی سے کہا کہ اگر ہم ڈرگ ٹیسٹ کے لیے رضامند ہو جاتے ہیں اور مقابلے کے لیے برابری پر آجاتے ہیں تو ہم یہ لڑائی کریں گے۔ یہ لڑائی میری وجہ سے ہو رہی ہے ۔ انھوں نے مینی کو اس طرح کے ہوٹل میں ٹھہرایا ہوا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔‘

مے ویدر نے ستمبر میں ہونے والے ایک اور مقابلے کے بعد ریٹائر ہونے کے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے۔ جبکہ دو مزید مقابلے جیتنے سے وہ ہیوی ویٹ لیجنڈ باکسر راکی مارکیانو کے 49 مقابلوں میں ناقابلِ شکست رہنے کے ریکارڈ کو برابر کر سکتے ہیں۔

تاہم ان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’ لوگ مجھ سے راکی مارکیانو کے ریکارڈ کے بارے میں پوچھتے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ میں یہ چھوڑ دوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پیسہ زیادہ ضروری ہے نہ کہ ناقابلِ شکست ریکارڈ ۔ 50 ناقابلِ شکست لڑائیاں آپ کے لیے تو خاص ہو سکتی ہیں لیکن میرے لیے نہیں۔‘

اسی بارے میں