پاکستان کے پاس بڑے سکور کا موقع ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد حفیظ نے اپنی آٹھویں ٹیسٹ سنچری اسکور کی ہے۔ یہ تین ٹیسٹ میچوں میں ان کی تیسری سنچری بھی ہے

پاکستانی بولرز نے کھلنا ٹیسٹ کے دوسرے دن بنگلہ دیش کی پہلی اننگز جلد سمیٹ دی اور اب بیٹسمینوں کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ ایک بڑے سکور کے ذریعے میزبان ٹیم کو دباؤ میں لے سکیں۔

اگرچہ پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش کے سکور332 رنز سے اب بھی 105 رنز پیچھے ہے لیکن 227 رنز پر اس کی صرف ایک وکٹ گری ہے۔

محمد حفیظ اور اظہرعلی کی سنچری شراکت نے ڈریسنگ روم میں بیٹھے یونس خان مصباح الحق اسد شفیق اور سرفراز احمد کی آنکھوں میں بھی چمک پیدا کردی ہے اور انہیں اس وکٹ پر بڑا سکور دکھائی دے رہا ہے۔

محمد حفیظ نے اپنی آٹھویں ٹیسٹ سنچری سکور کی ہے۔ یہ تین ٹیسٹ میچوں میں ان کی تیسری سنچری بھی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی میں 101 اور شارجہ میں اپنے کرئیر کی بہترین کارکردگی 197 رنز بنائے تھے۔

ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد جب حفیظ نے بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلنے گئے تو تینوں میچوں میں صرف34 رنز کی مایوس کن کارکردگی نے ان پر دباؤ بڑھادیا تھا جس سے وہ نکلنے میں اب کامیاب ہوگئے ہیں۔

محمد حفیظ نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سمیع اسلم کے ساتھ پہلی وکٹ کی شراکت میں 50 رنز کا اضافہ کیا۔سمیع اسلم اور محمد حفیظ کی شکل میں چھٹے ٹیسٹ میں یہ چھٹی اوپننگ جوڑی کھیل رہی ہے ۔

سمیع اسلم بنگلہ دیشی ٹیم کی طرف سے لیےگئے ریویو پر وکٹ کیپر مشفق الرحیم کے ہاتھوں کیچ پر آوٹ قرار دیےگئے۔ مشفق الرحیم نے اظہرعلی کے دو کیچز ڈراپ کیے اور دوسرے کیچ کی کوشش میں انگلی زخمی کراکر میدان سے جانے پر مجبور ہوگئے۔

محمد حفیظ نے اپنی اننگز میں لیگ سائیڈ پر زیادہ رنز سکور کیے۔ان کے نو چوکے بیک ورڈ اسکوائر لیگ اور مڈوکٹ کے درمیان تھے جبکہ شکیب الحسن کی گیندوں پر لگائے گئے دونوں چھکے بھی مڈوکٹ کی طرف تھے۔

محمد حفیظ اور اظہرعلی دوسری وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں 177 رنز کا اضافہ کر چکے ہیں۔

اظہرعلی ون ڈے سیریز میں بیٹسمین کی حیثیت سے اچھا کھیلے تھے لیکن بحیثیت کپتان انہیں تینوں میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم اب ٹیسٹ سیریز میں انہیں صرف اپنی بیٹنگ پر توجہ دینی ہے ۔

اظہرعلی پر اس وقت کٹھن وقت آیا جب 11 رن اور 28 رن پر ان کے کیچز وکٹ کے پیچھے گرے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ بھی اپنی آٹھویں ٹیسٹ سنچری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

دوسرے دن پاکستانی بولرز نے اچھی بولنگ کی اور چھ وکٹیں 96 رنز کے اضافے پر حاصل کرلیں۔

آخری پانچ وکٹیں صرف 27 رنز کا اضافہ کرسکیں۔ شکیب الحسن، مشفق الرحیم اور سومیا سرکار میں سے کوئی بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکا۔

ذوالفقار بابر جنھوں نے پہلے دن کے آخری اوور میں مومن الحق کے 80 کے انفرادی سکور پر قیمتی وکٹ حاصل کی تھی۔ دوسرے دن کے چوتھے ہی اوور میں شکیب الحسن کو بھی آؤٹ کردیا جس کے بعد لیگ اسپنر یاسرشاہ نے مشفق الرحیم کو آؤٹ کرکے وہاب ریاض کو موقع دے دیا کہ وہ ٹیل اینڈرز کا صفایا کردیں۔

اسی بارے میں