’باغی لیگ آئی سی سی کے لیے خطرہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ iccunk

بھارت کے سابق کرکٹرز اور عہدیدار اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ کوئی بھی حریف کرکٹ لیگ اس کھیل کے عالمی مقابلوں یا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طاقت کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔

ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ماضی میں بھی ایسی کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔

اطلاعات کے مطابق ارب پتی بھارتی کارباری شخصیت سبھاش چندرا کی جانب سے ایک حریف کرکٹ سسٹم متعارف کروائے جانے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ناقابل اعتبار ہیں کیونکہ کچھ سال پہلے چندرا کے ایسل گروپ کی جانب سے شروع کی گئی ٹی ٹوئنٹی لیگ بھی ناکامی سے دوچار ہوئی اور متعدد کھلاڑیوں کو لاکھوں ڈالرز کے واجبات بھی ادا نہیں کیے گئے۔

برطانیہ اور آسٹریلیا سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق ایسل گروپ نے حال ہی میں کئی ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں اپنی کمپنی کو رجسٹرڈ کروایا ہے جس کا مقصد ان ممالک کے بہترین کھلاڑیوں کو اپنی نئی عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں شامل کرنا ہو سکتا ہے۔

بی سی سی آئی کے سابق سیکریٹری نرنجن شاہ نے خبر رساں ایجنسی اے پے کو بتایا کسی کو بھی نیا سسٹم بنانے سے روکا نہیں جا سکتا تاہم جو سسٹم قائم ہو چکا ہے اسے ختم کرنا بہت مشکل ہے۔

ادھر سبھاش چندرا کے ایکسل گروپ کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ کھیلوں کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں جس کا مقصد اس کھیل کو عالمی سطح پر فروغ دینا ہے۔

اس بیان میں خطیر تنخواہیں دینے والے ’حریف لیگ‘ کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔

دوسری جانب آئی سی سی نے بھی گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایکسل گروپ کی جانب سے مختلف ممالک میں رجسٹریشن کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

تاہم بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ وہ ایکس گروپ کی جانب سے کیے جانے والے ممکنہ اقدامات کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔

انوراگ ٹھاکر نے بھارت کے آج تک نیوز چینل کو بتایا کہ صرف آئی سی سی ہی کرکٹ کی گورننگ باڈی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسی کوششیں کی گئیں تاہم سب نے دیکھا کہ چاہے وہ سنہ 2007 سے 2009 تک منعقد ہونے والی انڈین کرکٹ لیگ (آئی سی ایل) ہو یا پھر سنہ 70 کی دہائی کی ورلڈ سیریز کرکٹ ہو، سب کیسے ناکام ہوئیں۔

اگرچہ باغی آئی سی ایل لیگ کے دونوں سیزن میں متعدد بھارتی اور غیر ملکی کھلاڑیوں نے حصہ لیا تاہم وہ انھیں معاہدے کی رقم دینے میں ناکام رہی۔

بھارت کے سابق آل راؤنڈر مدن لال کا ماننا ہے کہ کسی بھی نئی لیگ کے لیے کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے

مدن لال نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ بہت سے کھلاڑیوں نے آئی سی ایل کی وجہ سے اپنے کریئر داؤ پر لگائے مگر آئی سی ایل نے ان کی پروا نہیں کی یہی وجہ ہے کہ اب کھلاڑیوں ایسا کرنے سے قبل 10 مرتبہ سوچیں گے۔

مدن لال کے مطابق آئی سی ایل ابھی تک ان کی مقروض ہے اور کسی بھی نئی لیگ کوخود کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ سے دس سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

بھارت کے سابق آل راؤنڈر کے مطابق بھارت میں بی سی سی آئی سے کھلاڑیوں کو ورغلانا بہت مشکل ہے۔

انڈین پریمئیر لیگ کے معمار للت مودی نے گذشتہ ہفتے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا کہ ایسا کوئی بھی آئیڈیا قابلِ عمل نہیں ہے۔

اسی بارے میں