خالی ہاتھ واپسی سے بچنے کا آخری موقع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے دورۂ بنگلہ دیش میں میزبان ٹیم کی شاندار کارکردگی میں اوپنر تمیم اقبال کا کردار نمایاں رہا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بنگلہ دیش سے خالی ہاتھ نہ آنے کا آخری موقع دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں مل رہا ہے جو بدھ سے میرپور میں کھیلا جائے گا۔

پاکستانی ٹیم اس دورے میں ابھی تک کوئی بھی میچ نہیں جیت سکی۔

اس کی ناکامیوں کا آغاز فتح اللہ میں پریکٹس میچ میں ایک وکٹ کی شکست سے ہوا تھا جس کےبعد بنگلہ دیش نے تینوں ون ڈے میچوں میں اسے آؤٹ کلاس کر دیا۔

دورے کا واحد ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بھی پاکستانی ٹیم سات وکٹوں سے ہاری۔

دونوں ٹیموں کے درمیان کھلنا میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ بھی ڈرا ہوگیا اور یہ پہلا موقع تھا کہ بنگلہ دیشی ٹیم نو ٹیسٹ میچوں میں پاکستان سے نہیں ہاری۔

بنگلہ دیش کی اس شاندار کارکردگی میں اوپنر تمیم اقبال کا کردار نمایاں رہا ہے جنھوں نے ون ڈے سیریز میں دو سنچریاں بنائیں اور پھر کھلنا ٹیسٹ میں کسی بھی بنگلہ دیشی بیٹسمین کی بہترین انفرادی اننگز کھیلی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راحت علی کے زخمی ہونے کے بعد پاکستان اے کے ساتھ سری لنکا کا دورہ کرنے والے فاسٹ بولر بلاول بھٹی ڈھاکہ بلائے گئے ہیں

تمیم نے اس اننگز میں 206 رنز سکور کیے اور امرالقیس کے ساتھ پہلی وکٹ کی شراکت میں 312 رنز بنا ڈالے جو بنگلہ دیش کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ بھی ہے۔

دوسرے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم میں کسی تبدیلی کا امکان بظاہر دکھائی نہیں دیتا اور آف اسپنر سعید اجمل کا اس میچ میں بھی کھیلنے کا امکان نہیں۔

فٹنس کے مسائل سے دوچار پاکستانی ٹیم اس دورے میں سہیل خان، احسان عادل اور راحت علی کی خدمات سے محروم ہوئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان اے کے ساتھ سری لنکا کا دورہ کرنے والے فاسٹ بولر بلاول بھٹی ڈھاکہ بلائے گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی فاسٹ بولر روبیل حسین بھی ان فٹ ہوگئے ہیں جبکہ کپتان مشفق الرحیم کی انگلی بھی زخمی ہے اور کھلنا ٹیسٹ میں ان کی جگہ امرالقیس اور محمود اللہ نے وکٹ کیپنگ کی تھی۔

اسی بارے میں