’وقار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے بنگلہ دیش نہیں جا رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شہریار خان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے دورے کے اختتام پر پوری ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے کوچ وقاریونس کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کو خارج ازامکان قرار دے دیا ہے۔

شہریارخان نے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ وہ وقاریونس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے ڈھاکہ جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف تینوں ون ڈے اور واحد ٹی20 میں پاکستانی ٹیم کی شکست کے بعد کوچ وقاریونس سخت تنقید کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔

شہریارخان نے ڈھاکہ روانگی سے قبل بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ پہلے بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ بنگلہ دیش کے دورے کے اختتام پر ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس کی روشنی میں فیصلے کیے جائیں گے لیکن اس مرحلے پر یہ تاثر درست نہیں کہ کوچ وقاریونس کو ان کے عہدے سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سے پوچھا گیا کہ کیا ایسی کوئی تجویز زیرغور ہے کہ وقار یونس کو معاہدہ ختم ہونے سے قبل بقایاجات ادا کر کے رخصت کیا جائے تو انھوں نے اس کا جواب بھی نفی میں دیتے ہوئے کہا کہ دورے کے اختتام پر پوری ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

شہریارخان نے کہا کہ چونکہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں بھی کوارٹر فائنل ہارگئی اور پھر بنگلہ دیش کے دورے میں بھی اس کی کارکردگی مایوس کن رہی لہٰذا وقاریونس کو سخت تنقید کا سامنا ہے اور انھیں یہ سب کچھ سہنا پڑے گا۔ وہ اپنا کام کریں اور تھوڑی بہت کامیابی دکھائیں تو تنقید ختم ہوجائے گی۔

شہریارخان نے کہا کہ وہ وقاریونس کی وجہ سے ڈھاکہ نہیں جا رہے ہیں بلکہ وہ ٹیم کا حوصلہ بڑھانے جا رہے ہیں کہ وہ آخری ٹیسٹ جیت کر عوام کے آنسو کسی حد تک پونچھ سکے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنگلہ دیش میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی جس پر وقاریونس کو سخت تنقید کا سامنا ہے

شہریار خان نے کہا کہ ان کے ڈھاکہ جانے کا بڑا مقصد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے حکام سے بات چیت کرنا ہے جس میں وہ ان سے کہیں گے کہ پاکستانی ٹیم متواتر بنگلہ دیش کا دورہ کر رہی ہے اب بنگلہ دیشی ٹیم کی باری ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کرے۔اس کے علاوہ وہ بنگلہ دیش میں ممکنہ سہ فریقی ون ڈے سیریز کے بارے میں بھی بات کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ سری لنکا نے بھی پاکستان کے دورے میں دلچسپی ظاہر کر دی ہے لہذٰا وہ چاہیں گے کہ زمبابوے کی ٹیم کے دورۂ پاکستان کے بعد دوسری ٹیمیں بھی پاکستان آئیں۔

شہریار خان نے کہا کہ اظہر علی کو صرف ایک سیریز کے لیے کپتان مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے تینوں ون ڈے میچوں میں عمدہ بیٹنگ کی حالانکہ وہ اوپنر نہیں ہیں لہٰٰذا ایسے دلیر کپتان کو صرف ایک سیریز کے نتیجے کے بعد ہٹا دینا مناسب بات نہیں ہے۔ انھیں وقت دینا چاہیے۔

شہریارخان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ زمبابوے کی ٹیم کے دورۂ پاکستان کے سلسلے میں تھوڑی بہت مالی مدد کر رہا ہے کیونکہ زمبابوے کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں ہے لیکن ہمیں اس کی تعریف کرنی چاہیے کہ اس نے پاکستان کے دورے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل کی کارکردگی سے متعلق سوال پر شہریار خان نے کہا کہ وہ فٹنس کے معاملے پر بالکل مطمئن نہیں ہیں اور یہ اتنا اہم معاملہ ہے جس پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں