بنگلہ دیشی بیٹسمین رنگ میں بھنگ ڈال سکیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Focus Bangla

ابھی پہلی اینٹ سرکی ہے لیکن پاکستانی ٹیم ُپرامید ہے کہ وہ بنگلہ دیشی ٹیم کی بنیادیں ہلاتے ہوئے اس دورے کواپنی واحد جیت پر ختم کر سکتی ہے۔

پاکستانی ٹیم کو کھلنا ٹیسٹ میں بھی جیتنے کا موقع ملا تھا لیکن تمیم اقبال اور امروالقیس کی ٹرپل سنچری شراکت اس پر بجلی بن کر گری تھی۔

میرپور ٹیسٹ کے تیسرے دن جب پاکستان نے بنگلہ دیش کو جیتنے کے لیے 550 رنز کا ہدف دیاتو اس وقت بھی ذہن میں انھی دونوں اوپنروں کا خیال آیا کہ وہ خسارے کو کتنا کم کر سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تمیم اقبال اور امرو القیس نے جارحانہ انداز کو بہترین دفاع تصور کرتے ہوئے پاکستانی بولنگ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی لیکن یاسرشاہ کی جس گیند پر امروالقیس بولڈ ہوئے اس کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ شیر بنگلہ سٹیڈیم کی وکٹ چوتھے دن سپن بھرا بارود بن کر میزبان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو اڑا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کھلنا ٹیسٹ کے ڈبل سنچری میکر تمیم اقبال، مومن الحق، مشفق الرحیم اور شکیب الحسن کی صورت میں بنگلہ دیش کے پاس رنگ میں بھنگ ڈالنے والے بیٹسمین اب بھی موجود ہیں لہٰذا پاکستانی بولروں کو یہ خیال ذہن سے نکال کر بولنگ کرنی ہوگی کہ ابھی بہت رنز پڑے ہیں۔

بنگلہ دیش کی پہلی اننگز کی مثال سامنے ہے جو اس نے 107 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تھی لیکن پاکستانی بولر شکیب الحسن کو آؤٹ نہ کرسکے جنھوں نے ایک اینڈ سے گرنے والی وکٹوں کے باوجود جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اسکور کو 203 تک پہنچادیا۔

14 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے بنائے گئے ان کے ناقابل شکست 89 رنز نے شائقین کو بہترین تفریح فراہم کی لیکن پاکستانی بولروں کی فرسٹریشن بھی بڑھادی۔

انھوں نے یاسر شاہ اور وہاب ریاض پر کچھ زیادہ ہی نظرکرم کی اور ان کی گیندوں کو باؤنڈری کی راہ دکھاتے رہے۔

وہاب ریاض نے اپنے پہلے سپیل میں لگاتار گیندوں پر دو وکٹیں حاصل کیں وہ شکیب الحسن کو بھی قابو کر لیتے اگر اسد شفیق ان کا ساتھ دے دیتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح الحق نے روایتی سٹروکس کے ساتھ ساتھ ریورس سویپ بھی خوب کھیلے

مصباح الحق نے بنگلہ دیش کو فالوآن نہیں کرایا اور 354رنز کی برتری کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کوشش میں وہ خود 82 رنز کی عمدہ اننگز کے ساتھ پیش پیش دکھائی دیے۔

محمد حفیظ میچ میں دوسری مرتبہ وکٹ کے پیچھے کیچ ہوئے۔

سمیع اسلم کے کھاتے میں ایک اور ناکامی لکھ دی گئی۔

یونس خان اور اظہرعلی ایک بار پھر بنگلہ دیشی بولروں کو سبق سکھانے کے موڈ میں تھے لیکن وہ اپنے سکور کو بڑی اننگز میں تبدیل نہ کرسکے۔ یہی صورت حال اسد شفیق کے ساتھ رہی۔

مصباح الحق نے روایتی سٹروکس کے ساتھ ساتھ ریورس سویپ بھی خوب کھیلے۔ سکور بورڈ کو تمام وقت متحرک رکھا اور اپنے آؤٹ ہوتے ہی میدان اپنے بولروں کے حوالے کر دیا۔

بنگلہ دیش کو پاکستان کے خلاف پہلی بار ٹیسٹ اور سیریز جیتنے کے لیے اب بھی 487 رنز درکار ہیں اور اس کی نو وکٹیں باقی ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیٹسمین پورے دن کھیل کر نئی تاریخ رقم کر سکیں گے؟

اسی بارے میں