بلآخر ایک جیت مل ہی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوتھے دن عمران خان نے تمیم اقبال اور محمود اللہ کی اہم وکٹیں حاصل کیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بنگلہ دیش کے دورے میں جس جیت کی تلاش تھی وہ اسے آخری میچ میں مل گئی ۔

یہ جیت اس اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کو پاکستان کے خلاف پہلی بار ٹیسٹ سیریز میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ قائم کرنے نہیں دیا اور بنگلہ دیش کا پاکستانی ٹیم کو پہلی بار خالی ہاتھ وطن واپس بھیجنے کا خواب بھی پورا نہ ہو سکا۔

پاکستانی ٹیم کے لیے یہ دورہ مشکلات سے دوچار رہا۔ پریکٹس میچ میں اسے شکست ہوئی پھر تینوں ون ڈے میچوں میں وہ ہاری اور واحد ٹی ٹوئنٹی میں بھی جیت اس سے روٹھی رہی۔

عام خیال تھا کہ ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم اپنے میزبانوں کو سر نہیں اٹھانے دے گی لیکن ورلڈ کپ کے بعد سے اپنی کارکردگی میں بہتری لانے والی بنگلہ دیشی ٹیم نے کھلنا کا پہلا ٹیسٹ میچ زبردست مزاحمت کے ساتھ ڈرا کر کے پاکستانی ٹیم کی مایوسی میں اضافہ کر دیا۔

اس صورتحال میں بعض سابق کرکٹرز اور میڈیا نے توپوں کا رخ خاص طور پر کوچ وقار یونس کی طرف کر دیا تھا کہ انہیں پہلی فرصت میں فارغ کر دیا جائے۔

یہ وہی آوازیں تھیں جو ورلڈ کپ کے بعد ٹیم میں تبدیلیوں کے حق میں بلند ہوئی تھیں لیکن نئے کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت کے ساتھ سامنے آنے والے نتیجے کو صرف اور صرف کوچ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔

میرپور ٹیسٹ کی جیت نے نہ صرف کپتان مصباح الحق کو ایک بار پھر فاتح کپتان کے طور پر پیش کردیا ہے بلکہ کوچ کی برطرفی کی خواہشات رکھنے والے بھی اب کچھ دن خاموش بیٹھے رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی جیت کا سکرپٹ لیگ اسپنر یاسر شاہ نے لکھا جنہوں نے میچ میں سات وکٹیں حاصل کیں

دوسرے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم نے ابتدا ہی سے اپنی گرفت مضبوط رکھی تھی۔ پہلے اس نے 557 رنز کا بھاری بھرکم اسکور بنایا اور پھر بنگلہ دیش کو صرف 203 رنز پر ڈھیر کر دیا۔

فالوآن کی بجائے مصباح الحق نے پہلی اننگز کی برتری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو جیتنے کے لیے 550 رنز کا مشکل ہدف دیا تھا۔

بنگلہ دیشی ٹیم نے تیسرے دن کے اختتام پر امرالقیس کی وکٹ گنوا کر خطرہ بھانپ لیا تھا۔

چوتھے دن عمران خان جنہیں ایک کے بعد ایک فاسٹ بولرز کے ان فٹ ہونے کے سبب ڈھاکہ بلایا گیا تھا تمیم اقبال اور محمود اللہ کی اہم وکٹیں حاصل کر ڈالیں تو دوسری جانب محمد حفیظ نے خطرناک شکیب الحسن سے جان چھڑا لی۔

لیکن پاکستان کی جیت کا سکرپٹ لیگ اسپنر یاسر شاہ نے لکھا جنہوں نے پہلی اننگز میں تین وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے بعد دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کر لیں۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ انہوں نے کسی ٹیسٹ میں سات وکٹیں حاصل کی ہیں۔

چوتھے دن انہوں نے کپتان مشفق الرحیم کو صفر پر بولڈ کیا اور پھر مسلسل گیارہویں ٹیسٹ میں نصف سنچری بنانے والے مومن الحق اور تیج الاسلام کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔

پاکستان نے مصباح الحق کی قیادت میں یہ چھٹی ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔ وہ 36 میں سے 16 ٹیسٹ میچز جیت چکے ہیں، دس میں انہیں شکست ہوئی ہے اور دس ٹیسٹ ڈرا ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں