’پیٹرسن کو ٹیم میں شمولیت کےلیےگمراہ نہیں کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Press Association
Image caption انگلش کاؤنٹی سرے کی جانب سے 355 رنز بنائے جانے کے باوجود کیون پیٹرسن کو ٹیم میں منتخب نہ کیے جانے کے بعد رائے منقسم ہے

نیو انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کولن گریوز نے کہا ہے کہ انھوں نے کیون پیٹرسن کو انگلش ٹیم میں دوبارہ شمولیت کے لیے گمراہ نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ گریوز نے گذشتہ برس مارچ میں یہ تجویز دی تھی کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے برطرف کیے جانے والے بیٹسمین کیون پیٹرسن اچھی کاؤنٹی فارم کے ساتھ ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے نئے کرکٹ ڈائریکٹر اینڈریو سٹراس کا کہنا ہے کہ کیون پیٹرسن کو ’بھروسے‘ کے معاملات پر منتخب نہیں کیا جائےگا تاہم کیون پیٹرسن نے اس فیصلے کو ’دھوکہ بازی‘ قرار دیا ہے۔

کولن گریوز اس بات پر مصر ہیں کہ انھوں نے 34 سالہ بیٹسمین کیون پیٹرسن کے ساتھ ’کوئی وعدے نہیں کیے تھے۔‘

نیو انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا ایک بیان میں کہنا تھا ’کیونکہ اس بارے میں پیر کو مطلع کر دیاگیا تھا اور میں اس فیصلے کی پوری طرح حمایت کرتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ شاید کیون پیٹرسن کو یہ فیصلہ پسند نہ آئے تاہم اس سے انھیں دیگر مواقعوں کو جانچنے میں مدد ملے گی۔

کولن گریوز کے مطابق ان تمام باتوں کے باوجود کیون پیٹرسن ہمارے ساتھ کام کر سکتے ہیں جس سے ان کے اور ہمارے تعلقات میں بہتری آئے اور وہ انگلش کرکٹ میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں تاہم یہ بات اہم ہے کہ انھیں اس بات کا پتہ ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 2008 میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کریئر شروع کرنے والے پیٹرسن نے 104 ٹیسٹ میچوں میں 47 رنز کی اوسط سے 8181 رنز بنا رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے 136 ایک روزہ میچوں میں 4440 رنز جب کہ 37 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 1176 رنز بنائے ہیں

نیو انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہ یہ بیان شائع کرنے پر اس لیے بھی مجبور ہوئے کیونکہ انھیں ایسا محسوس ہوا کہ کیون پیٹرسن کے ساتھ گذشتہ برس مارچ میں ہونے والی گفتگو میں ان کی دیانتداری پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کیون پیٹرسن نے مجھ سے پوچھا تھا ’آیا میرے خیال میں ان کا کرکٹ کیریئر صحیح سمت میں ختم ہوا ہے؟‘

کولن گریوز نے تسلیم کیا کہ ’اتنی کامیابی کے ساتھ کوئی بھی ابھر کر سامنے نہیں آیا خاص طور پر انگلش کرکٹ کے لیے ان کی کامیابیاں‘

ان کے بقول پیٹرسن نے انھیں بتایا ’وہ سمجھتے ہیں کہ وہ انگلینڈ کرکٹ کے لیے ابھی بہت کچھ کر سکتے ہیں‘ اور ’وہ انگلینڈ کے لیے کسی بھی حیثیت سے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کے بقول انھوں نے کیون پیٹرسن کو ’اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی تھی کہ انھیں انگلینڈ کی ٹیم میں منتخب کیا جائے گا۔‘ واضح رہے کہ انگلش کاؤنٹی سرے کی جانب سے 355 رنز بنائے جانے کے باوجود کیون پیٹرسن کو ٹیم میں منتخب نہ کیے جانے کے بعد رائے منقسم ہے۔

کیون پیٹرسن نے روزنامہ ’ٹیلی گراف‘ میں ایک کالم میں لکھا تھا کہ انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ نے ان کی ’غلط رہنمائی‘ کی ہے۔

پیٹرسن نے لکھا ’میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک دھوکا ہے میں اس سے ناراض ہوں اور مجھے اس سے تکلیف پہنچی ہے۔‘

کولن گریوز نے مارچ میں بی بی سی ریڈیو فائیو کے لائیوسپورٹس پروگرام میں کیون پیٹرسن کی انگلش ٹیم میں واپسی کے امکان کو مسترد نہیں کیا تھا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے انگلش سلیکٹرز اور کوچز کا فیصلہ حمتی ہو گا۔

گریوز نے ٹیلی گراف کو بتایا تھا کہ ’اگر پیٹرسن کاؤنٹی سائیڈ کے لیے رنز بناتے ہیں‘ تو سلیکٹرز ’انھیں نظر انداز‘ نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں