نابینا لڑکی نے پول والٹ میں کانسی کا تمغہ جیت لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انھوں نے ساتویں جماعت میں پول والٹنگ کا کھیل شروع کیا تھا

امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں منعقد ہونے والی ہائی سکول چیمپیئن شپ میں ایک نابینا نوجوان لڑکی نے پول والٹ جس میں کھلاڑی بھاگ کر ڈنڈے کی مدد سے رسے کے اوپر سے چھلاگ لگاتے ہیں، کانسی کا تمغہ جیت کر اپنے خواب کی تعبیر کی ہے۔

شارلٹ براؤن نامی اس نوجوان لڑکی نے 3.5 میٹر اونچی چھلانگ لگائی اور تمغہ وصول کرتے وقت اس کا گائیڈ کتا بھی اس کے ساتھ تھا۔

بچپن میں ایک آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے شارلٹ گیارہ برس کی عمر میں بینائی سے محروم ہوگئی تھیں۔

سترہ سالہ شارلٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ کہانی صرف میری نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کے متعلق ہے جو زندگی میں کسی بھی دقت کا شکار ہے۔‘

سنیچر کو میڈل جیتنے والی شارلٹ ایموری رئینز سکول کی طالبہ ہیں اور وہ گزشتہ دو سالوں سے تمغہ جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے وہ آٹھویں اور چوتھی پوزیشن ہی حاصل کر سکی تھیں۔

انھوں نے ساتویں جماعت میں پول والٹنگ کا کھیل جو معذور افراد کی اولمپیکس یعنی پیرالیمپک کا حصہ نہیں ہے شروع کیا تھا کیونکہ بقول ان کے وہ کچھ ’خطرناک اور دلچسپ‘ کرنا چاہتی تھیں۔

شارلٹ جب پول پکڑ کر دوڑ رہی ہوتی ہیں تو وہ مقررہ مقام پر پہنچنے کے لیے اپنے قدم گنتی ہیں اور اس سلسلے میں ایک مدھم آلے کی آواز بھی ان کی مدد کرتی ہے۔

شارلٹ جن کا تعلیمی سکالرشپ پر یورنیورسٹی میں داخلہ ہوگیا ہے کا کہنا ہے کہ ’تمغہ جیتنے میں مجھے تین سال لگے اور آخر کار میں نے کامیاب ہو ہی گئی۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ اگر اس سے میں کوئی پیغام دے سکوں تو وہ پول والٹ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ وہ یہ ہے کہ جو چیز آپ کو پسند ہے اس کو حاصل کریں چاہے اس میں کتنی ہی دشواریاں درپیش ہوں۔‘

اسی بارے میں